کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آل پاکستان بین الصوبائی بار کونسلز رابطہ کمیٹی اجلاس زیرِ اہتمام سندھ بار کونسل، کراچی
سندھ بار کونسل کے زیر ِ اہتمام بین الصوبائی کمیٹیز کا اجلاس زیر ِ صدارت عبدالرزاق مہر چئیر مین بین الصوبائی رابطہ کمیٹی، اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کونسلز کے نمائیندگان نے شرکت کی جن میں پنجاب بار کونسل، بلوچستان بار کونسل، خیبر پختون خواہ بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل- منعقدہ اجلاس میں کچھ ضروری قراردادیں منظور کی گئی جو درج ذیل ہیں-
قرارداد نمبر 1
یہ اجلاس پاکستان کی بقاء ، خوشحالی اورترقی کے لئے جمہوری اداروں ، آزادعدالتی نظام کو ضروری سمجھتا ہے۔ اجلاس کی نظرمیں مضبوط خودمختار عدالتی نظام اور مضبوط پارلیمنٹ میں مملکت پاکستان کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ ماضی میں عدالتی امور میں مداخلت کی وجہ سے مارشل لاء کے حکمرانوں نے اپنے مفاد کے فیصلے کروائے جس سے ملک میں جمہوری نظام کو نقصان پہنچا اور عوام حقیقی جمہوریت کے ثمر سے محروم رہے۔ اجلاس کی نظر میں موجودہ مہنگائی، بیروزگاری، معاشی اور معاشرتی نا انصافیاں ، دہشت گردی ، عوام کا قتل عام ، خواتین کی بے حرمتی، بچوں کا اغواء اور قتل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں ادارے کے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے اپنے حدود سے تجاوز کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ ماضی میں
مولوی تمیز الدین کا مقدمہ۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی۔
نصرت بھٹو کا کیس۔
ظفر علی شاہ کیس۔
نے عدالتی سسٹم پر داغ لگایا اور پاکستان میں جمہوری اور عدالتی نظام کو کمزور بنایا۔ اجلاس موجودہ جوڈیشل ایکٹو یزم کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اجلاس کی نظر میں غیر معروف فیصلے عوام کے اندر عدالتی سسٹم سے اعتماد اُٹھ جانے کا باعث بنتے ہیں۔ اجلاس کی نظر میں پاکستان کے تمام ادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں تاکہ پاکستان میں جمہوری روئیے اور اداروں کو مظبوطی اور تقویت حاصل ہو۔
یہ اجلاس اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش کی مذمت کرتا ہے۔ اجلاس کی نظر میں اٹھارویں ترمیم پر حملہ صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے۔ اور مارشل لاء کا راستہ کھولنے کی سازش ہے۔
قرارداد نمبر 2
یہ اجلاس پاکستان میں داخل ہونے والے برمی اور افغانیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ غیر پاکستانی شہری کو شناختی کارڈ جاری کرنے کو فی الغور بند کیا جائے کیونکہ غیر قانونی سکونت اور مائیگریشن پاکستان کی معیشت پر بوجھ بنتا جا رہا ہے اور بے روزگاری کا سبب بن رہا ہے۔ غیر قانونی نقل مکانی سے پاکستان بھر اور بالخصوص سندھ میں معاشی اور معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور برمی اور افغانیوں کو اُن کے ممالک میں واپس بھیجا جائے۔
قرارداد نمبر 3
یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی روح اور اسپرٹ کے مطابق صوبوں کے وسائل یعنی گیس، تیل ، بجلی، پانی اور معدنیات صوبوں کی حکومتوں کے اختیار میں دیا جائے تاکہ پاکستان میں بسنے والی قومیں اپنے اختیار کے مالک بن سکیں اور صوبوں میں معاشی ترقی ہو سکے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ تیل اور گیس والے علاقوں کے بسنے والوں کو رائلٹی عطا کی جائے اور ان کی گیس کے بل معاف کئے جائیں۔
قرارداد نمبر 4
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی پر بار کونسلوں کو اعتماد میں لیا جائے اور Meaningful Consultation کی روح پر پورا اترا جائے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ Subordinate Courts میں کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور کرپٹ جوڈیشل افسران کے خلاف بار کے ممبران کی طرف سے شکایات پر فی الفور عمل کیا جائے۔
یہ اجلاس ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ماورائے عدالت قتل ، اغواء، بچوں کا قتل عام، سر عام حواتین کی بے حرمتی، منشیات فروشی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس کی نظر میں انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ کمزور سیاسی اقتدار اور معاشی منصوبہ بندی ہے۔ اجلاس کے مطابق ملک کی معاشی بدحالی کی وجہ کرپشن، اقرباء پروری اور فرسودہ جاگیردارانہ سسٹم ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ ملک میں افی الفور زرعی اصلاحات کئے جائیں اورزمین ، بے زمین کسانوں میں تقسیم کی جائے۔
قرارداد نمبر 5
یہ اجلاس موجودہ احتساب کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس کی نظر میں Across the Board احتساب کا عمل شفاف اور بلا تفریق ہونا چاہیے۔ اجلاس کے مطابق احتساب کے عمل کا دائرہ اختیار جج اور جنرل تک بڑھادیا جائے تاکہ کرپشن سے پاک پاکستان کا خواب پورا ہو سکے۔
قرارداد نمبر 6
یہ اجلاس پاکستان میں جمہوری عمل کو مظبوط بنیادوں پر بڑھنے کے لئے انتخابات کا بر وقت انعقاد کو ضروری سمجھتا ہے۔ اجلاس کی نظر میں ملک میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ کرپٹ عناصر کو انتخابی عمل سے باہر رکھا جا سکے۔
یہ اجلاس الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں صوبائی بار کونسلز کو
on Board لیا جائے تاکہ صاف اور شفاف انتخابات کے عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔
قرارداد نمبر 7
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت میں دینے کے لئے قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ بیرون ممالک میں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے علاج کرانے پر پابندی لگائی جائے ، جو بھی غریب اور بے سہارا علاج کی مناسب سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مرجاتا ہے تو اس کا کیس وزیر اور ذمہ دار کے خلاف دائر کیا جائے۔ اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ پانی اور غذائی کمی کے سبب تھر میں جو بچے مر رہے ہیں ان کا کیس ذمہ داران کے خلاف درج کیا جائے۔
قرارداد نمبر 8
یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہملک میں رائج انگریزوں کے قانون میں حالات کو مد نظر رکھ کر ترامیم یا یکسر تبدیل کرنے کے لئے بار، جوڈیشری اور ملک کے سیاسی افراد پر کمیٹی تشکیل دیجائے
قرارداد نمبر 9
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں کرپشن کر کے لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے اور کرپشن کرنے والوں کو نہ صرف قوم کے سامنے بے نقاب کیا جائے بلکہ قوانین میں ترامیم کر کے ان کو سخت سے سخت سزا دے کر تا حیات نا اہل کیا جائے۔
قرارداد نمبر 10
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہسپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کیا جائے۔
قرارداد نمبر 11
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہجوڈیشل کمیشن کی جوڑ جک میں تبدیلی لا کر شامل بار کے نمائندوں کی رائے کو اہمیت دے جائے۔
قرارداد نمبر 12
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہجیل ریفارمز کر کے جیلوں کے اندر ہر قسم کی تعلیم دلوانے کو یقینی بنایا جائے۔
قرارداد نمبر 13
مہذب معاشرہ قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں تھانہ کلچر کو ختم کیا جائے، وڈیروں، جاگیرداروں اور حکمرانوں کی پولیس کے اندر مداخلت کو روکا جائے اس سلسلے میں سخت ترین قانون بنائے جائیں۔
قرارداد نمبر 14
یہ اجلاس دنیا بھر میں بے گناہ کشمیریوں، فلسطینیوں، افغانیوں اور شامیوں کے قتل عام کی مذمت کرتا ہے۔ اور انجمن اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ قاتلوں کے سرغنہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت پر پابندی لگائی جائے اور دنیا بھر میں امن کی خاطر ایٹمی اسلحہ کی دوڑ پر بھی پابندی لگائی جائے۔
قرارداد نمبر 15
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ Pupilage کے دوران جونئیر / ٹرینی وکیلوں کو وظیفہ دیا جائے۔
صلاح الدین خان گنڈا پور، یاسر عرفات شر، عبدالرزاق مہر وائس چئیرمین، چئیرمین، چئیرمین
سندھ بار کونسل، ایگزیکیوٹو کمیٹی، بین الصوبائی رابطہ کمیٹی، سندھ بار کونسل سندھ بار کونسل
![]()