کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سابق رکن قومی اسمبلی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما علی رضا عابدی قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق علی رضا عابدی پر قاتلانہ حملہ خیابان غازی میں ان کے گھر کے باہر اس وقت ہوا جب وہ گاڑی سے اتر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں علی رضا عابد ی کے والد خالق عابدی بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق علی رضا عابدی کے سر اور گلے میں 2 ،2 گولیاں لگیں،انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبرد نہ ہوسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی سندھ کلیم امام سے رپورٹ طلب کرلی- ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ فاروق ستار نے علی رضا عابدی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے سابق رکن قومی اسمبلی پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے اور ڈی آئی جی ساوتھ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ علی رضا عابدی نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں این اے 243 میں وزیراعظم عمران خان کے مدمقابل الیکشن لڑا تھا۔ گزشتہ دونوں پاک سرزمین پارٹی کے دفتر پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا تھا جس میں دو کارکن ہلاک ہوئے تھے۔
![]()