کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تحریک لبیک پاکستان کے قائد علامہ خادم حسین رضوی نے کہا ہے کہ تبدیلی اور نیا پاکستان کے دھوکے میں کسی بھی سازش کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جھوٹے مقدمات، گرفتاریاں، پھانسی کی سزاؤں جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے ماضی میں بھی ناموس مصطفے کے راستے میں جام شہادت نوش کرنے کے جذبے کو سرد نہیں کیا جاسکا ہے الحمداللہ پورا پاکستان تحریک لبیک کے ایمانی موقف کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ ہمارے زخمی کارکنوں کے حوصلے پہلے سے زیاہ بلند اور شہدا کے ورثاء کے جذبات نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرکے میری فکر و سوچ کو بھی جلا بخشی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کراچی پہنچے کے بعد لیاقت نیشل ہستپال اور عباسی شہید ہسپتال میں نیو کراچی کے دھرنا میں زخمی ہونے والے کارکنوں کی عیادت اور بعد ازاں نیو کراچی میں جام شہادت نوش کرنے والے شہداء شہباز شہید اور شاہد قادری شہید کے گھروں پر تعزیت کرنے کے بعد ٹی ایل پی کے مقامی ذمہ داروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا جو ان کی آمد کا سن کر ہزاروں کی تعداد میں یہاں جمع ہوگئے تھے۔ اور گستاخ رسول کی ایک ہی سزا، سرتن سے جدا، سر تن سے جدا، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کے فلک شکاف نعرے لگا رہے تھے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ غلامی اور عشق میں بہت فرق ہے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سوچ عالم کفر سے درآمد شدہ ہے۔ ڈالر اور یورو پر پلنے والے مٹھی بھر عناصر حکومت کو غلط راستوں پر ڈال کر اسے مزید آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ زخموں سے چور کراچی نے عام انتخابات کی طرح عاصیہ میسح کےحوالے سے خلاف شریعت فیصلے پر ایک بار پھر اپنے جس مومنانہ جذبے کا اظہار کیا ہے میری آنکھیں نم اور میر ی زبان ان کے حق میں دعاؤں سے تر ہے کراچی درود و سلام والوں کا وہ شہر ہے جب بھی ملک میں اسلام کی سر بلندی اور تحفظ ناموس مصطفے کی کوئی تحریک چلی ہے کراچی اور اہل کراچی نے نظریہ پاکستان کی اساس کو زندہ رکھنے کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں کراچی والوں کا کردار غلامان رسول کی تاریخ کا سہنری باب ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد سے لیکر کراچی تک اپنے شہداء اور زخمیوں کیلئے حکومت سمیت کسی سے بھیک نہیں مانگی ہے ہمارے اخلاص اور قربانیوں کی بدولت ہماری غیبی امداد پر حساب مانگنے والے پہلے خود اپنے امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک سے چندوں اور پر تعیش سیاسی پروگراموں کا حساب کتاب اس غریب پاکستانی عوام کو پیش کریں جس تبدیلی کے نعرے کے نتیجے میں جس غریب کے گھر کا چولہا بجھ چکا ہے اور وہ بال بچوں سمیت خود سوزی اور خودکشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں آئین اور قانون کا حلف اٹھانے والے صبح شام طرز حکمرانی میں حلف کی پاسداری کے بجائے اس سے انحراف کرکے ہمیں قانون پر عمل کرنے کا سبق سکھا رہے ہیں انہیں ایسی باتیں کرنے سے قبل اپنے گربیان میں بھی جھانک لینے کی زحمت کر لینی چاہئے عاصیہ معلونہ کے ناقابل قبول فیصلے کو درست قرار دینے والے قوم کو یہ بھی بتائیں کہ 12 مئی کو چیف جسٹس آف پاکستان کو یر غمال بنا نے والے کراچی میں انسانوں کی نعشوں کا مینار بنانے والے آج حکومت میں کس قانون اور انصاف کے تحت شامل ہیں اور ہم جیسے پاکستان بنانے والے دو قومی نظریہ کے مطابق ناموس رسول کے تحفظ کی بات کریں تو ہم پر بغاوت کا مقدمہ بنانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کی اپیل پر انشااللہ 9 نومبر کو پورے ملک میں یوم اقبال پورے قومی جوش و خررش سے منا کر نہ صرف پاکستان سے تجدید عہد وفا کیا جائے گا بلکہ اس عزم کا بھی بھر پور اظہار کیا جائے گا جیسا کہ ماضی میں سوشلزم کا قبرستان پاکستان بنا تھا اب سیکولرازم، لبرل ازم اور عالم کفر کا قبرستان پاکستان ہوگا۔
![]()