ماتلی (رپورٹ: ندیم کشمیری) سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آسیہ مسیحی کیس کا فیصلہ آنے کے بعد عاشقان رسول سڑکوں پر نکل آئے شہر کا گشت کرتے ہوئے دکانیں بند کرنے کی اپیل کی جس پر شہر مکمل طور پر بند ہو گیا شٹر ڈاؤن کے بعد ایک بڑا احتجاجی جلوس نکال کر ماتلی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شاکر سموں، میر محمد چانڈیو،علی سیفی سمیت دیگر نے کہا ہے کہ آسیہ مسیحی نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا مگر اس کے باوجود مقدمے میں بری کیا گیا شرکاء نے مطالبہ کیا ہے کہ توہین رسالت کسی صورت میں قابل قبول نہیں اعلٰی عدالت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے آسیہ مسیحی کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا جائے مظاہرین نے کہا کہ دیگر صورت میں احتجاج کا دائرہ کار سپریم کورٹ تک بڑھا دیا جائے گا-
![]()