کراچی، (رپورٹ: ذیشان حسین/ اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کے روز صوبائی کابینہ میں اہم ردوبدل کا اعلان کیا، جس کے تحت مختلف وزراء کے محکمے تبدیل کیے گئے، دو نئے وزراء کو شامل کیا گیا اور چار نئے معاونین خصوصی کا تقرر عمل میں آیا۔ اس ردوبدل کے بعد سندھ کابینہ کے اراکین کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تبدیلیاں محض نمائشی اقدام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پر کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں صفائی، پانی کی فراہمی اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
اہم تبدیلیوں میں سعید غنی سے محکمہ بلدیات واپس لے کر ناصر حسین شاہ کے سپرد کیا گیا ہے، جو پہلے منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر تھے۔ ناصر حسین شاہ کو توانائی کا قلمدان بھی دیا گیا ہے، جبکہ سعید غنی کو محنت و سماجی تحفظ کا محکمہ دیا گیا ہے۔ محمد اسماعیل راہو کو وزارت یونیورسٹی اینڈ بورڈز کا قلمدان ملا ہے، جنہوں نے گورنر ہاؤس میں تقریب حلف برداری میں حلف اٹھایا۔
مزید ردوبدل کے تحت گیان چند ایسرا نی کو مشیر بحالیات مقرر کیا گیا ہے، مخدوم محبوب الزمان کو محکمہ خوراک کا قلمدان دیا گیا ہے اور جبار خان کو محکمہ ریلیف کا انچارج بنایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کو منصوبہ بندی و ترقی کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق چار نئے معاونین خصوصی کی بھی تقرری عمل میں آئی ہے جن میں ڈاکٹر شام سندر کے۔ ادوانی (محکمہ اقلیتی امور)، فراز عابد لاکانی، محمد طارق حسن اور عطا محمد پنہور شامل ہیں۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بھی وزیراعلیٰ سندھ نے دس معاونین خصوصی تعینات کیے تھے۔