تازہ ترین
Home / اہم خبریں / سندھ میں بلدیاتی قانون میں اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ صوبائی وزراء سندھ کی مسلم لیگ ق سندھ کے صدر طارق حسن کو یقین دہانی

سندھ میں بلدیاتی قانون میں اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔ صوبائی وزراء سندھ کی مسلم لیگ ق سندھ کے صدر طارق حسن کو یقین دہانی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی صوبائی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی قانون میں اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کپ قانون سب سے لئے قابل قبول ہو۔ سڑکوں پر مظاہرے اور شور شرابے کی بجائے اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں آپس میں مل بیٹھ کر اپنی تجاویز دیں۔ ہم اس بات سے کسی صورت انکار نہیں کرتے کہ صوبہ سندھ میں چونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اس پر دباؤ یا جبری طور پر قانون میں ترامیم ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار دونوں جماعتوں کے صوبائی رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے بدھ کے روز مسلم لیگ ق سندھ کے صدر طارق حسن کی رہائشں گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ ق سندھ کے جنرل سیکرٹیری کنور ارشد علی، صوبائی سیکرٹیری اطلاعات محمد صادق شیخ، نعمت خلجی، جمیل احمد خان اور دیگر بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: ڈسٹرکٹ ایسٹ کے بعد کراچی ساؤتھ نے بھی یوم جناح آل کراچی ٹاپ سٹی ون انٹر ڈسٹرکٹ ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل فور میں رسائی حاصل کرلی
https://www.nopnewstv.com/karachi-south-also-reached

ملاقات میں سندھ لوکل ترمیمی بل کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے کہا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں اقلیت و اکثریت کے حوالے سے کی اس کو اپوزیشن نے غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی قومی جماعت ہے اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں بلدیاتی ترمیمی بل پر تمام جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار و عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صوبائی وزراء نے کہا کہ یہ کوئی نیا بل نہیں ہے بلکہ وہی 2013 کا بل ہے جس کے تحت آخری بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے البتہ اس میں ترامیم کرکے اس کو مزید بہتر کیا گیا ہے۔ ہم نے اختیارات کو کم نہیں بلکہ اختیارات کو مزید نچلی سطح تک پہنچایا ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر طارق حسن نے کہا کہ میں دونوں صوبائی وزراء کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ وہ یہاں تشریف لاۓ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی بل کے حوالے سے ہم نے بہت سی تجاویز دی تھی اور ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس بل میں ہماری کئی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی جانب سے ہونے والی تمام اپوزیشن جماعتوں کو رائے دی تھی کہ ایک کمیٹی تشکیل دے کر حکومتی کمیٹی سے بات کی جائے۔ طارق حسن نے کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہماری ملاقات کے دوران ان دونوں صوبائی وزراء نے اس بل میں ممکنہ ترامیم کو شامل کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شور شرابے کی بجائے بیٹھ کر بات چیت کے حامی ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ 2001 میں بھی کچرہ اٹھانا میئر کا کام نہیں تھا، یہ کام ڈی ایم سیز کرتی تھی۔ ہم نے اپوزیشن جماعتوں کی فرمائش پر ٹاؤنز بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے دوستوں کی رائے تھی کہ ڈی ایم سیز برقرار رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2013 کے مقابلے مزید اختیارات کو نچلی سطح پر دئیے ہیں۔ ٹیکس کلیکشن کے اختیارات مزید دیئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے ادارے تحویل میں لینے میں نیک نیتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں اسپتال بہتر چلیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے