کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کراچی کے تمام اضلاع میں پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی نااہلی اور نالائقی کے باعث مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور سوئی گیس کی بندش کے خلاف پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے تحت کراچی کے تمام اضلاع میں بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے اوردھرنے دیے گئے۔پاکستان پیپلزپارٹی ضلع شرقی کے تحت لسبیلہ چوک پراحتجاجی مظاہرے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر،صوبائی وزیراطلاعات ومحنت سعید غنی نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی جماعت گیس لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج نہیں کررہی ہے،جو کہتے تھے کہ پچاس لاکھ گھربناکردیں گے،انہوں نے گھرتو نہیں دیے مگران کی حکومت میں گھرٹوٹے ضرورہیں،پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور میں صرف بحران پیدا کیے،غریب جوچیزیں استعمال کرتے ہیں وہ روزانہ کی بنیاد پرمہنگی ہورہی ہیں۔سعید غنی نے کہاعمران نیازی کا کہنا تھا کہ جب میری حکومت آئے گی تو لوگ باہر سے نوکریاں ڈھونڈنے پاکستان آئیں گے مگرملک بھرکے عوام اپنے چولہوں مں گیس ڈھونڈ رہے ہیں ،لوگ لکڑیوں پرکھانا پکانے پرمجبورہیں، اسلام آباد میں یہ بات گردش میں ہے کہ حالات یہی رہے تو تین ماہ بعد سرکاری ملازمین کوتنخواہ دینے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے ۔ نیازی تم نے کہاکہ تھا کہ ملک مین جب مہنگائی بڑھے،پیٹرول مہنگا ہو،ڈالر ایک روپے مہنگا ہوجائے تو سمجھ لو حکمران چورہیں آج ثابت ہوگیا کہ سب سے بڑے چورآپ خود ہو۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ایک جماعت ایسی بھی جو کراچی کی ٹھیکیداربنتی ہے، کہتے ہیں کہ کراچی میں سانس وہ لے سکے گا جو ایم کیوایم کوتسلیم کرے گا۔۔ کراچی کی ٹھیکدارجماعت ماضی میں پیٹرول کی قیمت 25 پیسے بڑھنے پرکراچی میں احتجاج کرتی تھی اورحکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دیتے تھے لیکن آج وہ نیازی سرکارکے سہولت کاربنے ہوئے ہیں یہ ٹھیکدارکراچی میں رہنے والی قومیتوں کوکراچی کے شہری نہیں سمجھتے ہیں اوراپنے مخالف اردوبولنے والوں کو بھی کراچی کا شہری نہیں کہتے، یہ صرف حلف یافتہ دہشت گردوں کومقامی سمجھتے ہیں باقی سب کو غیرمقامی کہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ان کے حلف یافتہ دہشت گرد اس شہرکے بلاشرکت غیرے حکمران رہیں اورشہرکے اسپتالوں پارکوں اسکولوں کی زمینوں پریہ قبضہ کرکے فروخت کرتے رہیں،عوام کویاد ہے کہ انہوں نے بلدیہ فیکٹری میں مزدوروں کوزندہ جلادیا ، عامرخان کہتا ہے کہ ہمیں وہی سیاست کرنا ہوگی کہ ہم چٹکی بجائیں اورشہربند ہوجائے،جس تقریرکے بعد بانی ایم کیوایم پرپابندی لگی تھی اس تقریرسے پہلے عامرخان کی آڈیوریکارڈ پرموجود ہے کہ وہ تقریرسے پہلے کہہ رہا تھا کہ بھائی ہمارا دل نہیں چاہتا کہ ہم پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں ،یہ لوگ شہرکودوبارہ برباد کرنا چاہتے ہیں پہلے یہ پٹھانوں پھرپنجابیوں سے اس کے بعد بلوچوں سے لڑے اس کے بعد کراچی کے اردوبولنے والوں سے لڑے ہیں ،یہ عوام کی اصل ایشو سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اوریہ جانتے ہیں کہ بلدیہ ٹاؤن سمیت کراچی کے ضمنی الیکشن میں جو ان کا حشر ہوا بلدیاتی انتخابات میں اس سے بھی برا حشرہوگا، یہ کہتے ہیں کہ ہمیں شہربند کرانے کی سیاست کی طرف آنا ہوگا یہ بھول گئے کہ اب یہ اپنا گھربھی بند نہیں کراسکتے۔مظاہرے سے اقبال ساند لالہ رحیم،ذوالفقارقائمخانی، آصف خان،شرمیلا فاروقی،سردارنزاکت دیگرنے بھی خطاب کیا پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ کورنگی کے تحت سوئ گیس کے دفترسامنے احتجاجی مظاہرے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ستر کی دہائی میں شہید ذوالقفارعلی بھٹو نے ملک بھرمیں گلی گلی کوچہ کوچہ سوئی گیس پائپ لائن کے جال بچھائے لیکن آج پورے ملک میں رہائشی اورصنعتی علاقوں میں گیس بند کرکے ایک طرف عوام کوتنگ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سوچھی سمجھی سازش کے تحت صنعتوں کونقصان پہنچایا جارہا ہے،صنعتوں کوگیس کی بندش کے باعث اس سال ملک کوچھ ارب ڈالرکا ایکسپورٹ میں نقصان ہوگا،حکمران بتائیں کہ وہ کن ممالک اورکن عالمی اداروں سے بھیک مانگ کریہ نقصان پورا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی ترمیمی بل 2021 عوام کونچلی سطح تک خود مختاربنانے کا مظہرہے،اس میں بلدیاتی اداروں کوجوخودمختاری دی گئی ہے وہ ماضی کے بلدیاتی قانون میں نہیں دی گئی جو لوگ اس پرتنقید کررہے ہیں وہ پہلے اس بل کوغورسے پڑھ لیں ،پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور میں صرف بحران پیدا کئے،عوام نااہل حکومت کی ناقص پالیسیوں سے تنگ آچُکے ہیں۔ مظاہرین سے جاوید شیخ،مرزامقبول نے خطاب کیا۔پاکستان پیپلزپارٹی ضلع ملیرکے تحت احتجاجی مظاہرے اوردھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرتوانائی امتیازشیخ نے کہاکہ سندھ سے سترفیصد گیس کی پیداوارکے باوجود ہم اس سے محروم کردیے گئے ہیں ، میں حماد اظہر سے سوال کرتا ہوں کہ سندھ کی گیس ہمارے چولہے نہیں جلا رہی ہے تو سندھ سے نکلنے والی گیس کہاں فروخت کردی گئی ہے۔ مظاہرین سے راجہ عبدالرزاق ،ساجد جوکھیو،سلمان مراد،عدیل شیخ نے بھی خطاب کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی ضلع ساؤتھ کے تحت ٹاورپراحتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ساؤتھ کے جنرل سیکریٹری جاوید ناگوری نے کہاکہ گیس بحران پر وفاقی وزیر توانائی کی مجرمانہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے،تبدیلی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے ملک بحرانستان بن چکا ہےاس موقع پر خلیل ہوت،کرم اللہ وقاصی دیگرنے بھی خطاب کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی ضلع ویسٹ کے تحت احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرلیاقت آسکانی نے کہاکہ ہم نے بلدیہ ٹاؤن کے ضمنی الیکشن اورکنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں ایم کیوایم پی ٹی آئی اورپی ایس پی کوتاریخی شکست دی ہے ،یہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے ان الیکشن کے نتائج پرغورکریں۔پی پی شعبہ خواتین کراچی کی صدرایم این اے ڈاکٹرشاہدہ رحمانی نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 158 میں واضح ہے کہ جو صوبہ قدرتی وسائل پیدا کرے گا پہلا حق اسی صوبے کے عوام کا ہے،اس وقت سندھ کے عوام پرگیس کی بندش کرکے وفاقی حکومت آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہی ہے۔ مظٓاہرین سے ایم این اے قادرمندوخیل اورعلی احمد نے بھی خطاب کیا۔پیپلزپارٹی ضلع سینٹرل کے تحت لیاقت آباد میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی شہلا رضا نے کہاکہ مہنگائی بے روزگاری اور معیشت کی بدحالی نے عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے،حکمرانوں کو عوام کی تکالیف سے کوئی سروکار نہیں ہے۔مظاہرے سے ظفرصدیقی،دل محمد دیگرنے بھی خطاب کیا۔مظاہرین نے گیس کی بندش کے خلاف کتبے اوربینراٹھاررکھے تھے جن پرلسانی اورنفرت کی سیاست نامنظور،گیس کی بندش نامظور،توانائی کا بحران، مہنگائی اوربیروزگاری ختم کرو سمیت دیگرمختلف مطالبات اورنعرے درج تھے۔ مظاہرکے شرکا دوران احتجاج گو نیازی گو نیازی کے نعرے بلند کرتے رہے۔