ساہیوال (ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) پنجاب کے سراپا احتجاج ملازمین اور اساتذہ آج اپنی ماں، وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کو پکار رہے ہیں۔ ماں تو وہ سایہ ہوتی ہے جو دھوپ میں اولاد پر ڈھال بن جاتی ہے۔ جو دکھ میں سہارا اور مشکل میں حوصلہ دیتی ہے۔ مگر آج سوال یہ ہے کہ آخر پنجاب کے یہ محنت کش ملازمین خود کو تنہا کیوں محسوس کر رہے ہیں؟ کیا یہ اولاد ماں کی توجہ سے محروم ہے؟ یا تصویر کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے؟ ممکن ہے ماں اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہو، مگر کسی مجبوری یا بے بسی کا شکار ہو۔ اگر ایسا ہے تو کم از کم دلاسہ تو دیا جاتا، حوصلہ تو بندھایا جاتا، تسلی تو دی جاتی۔ مگر افسوس! آج ہمیں ماں کسی روپ میں بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ پنجاب کے اساتذہ اور ملازمین سڑکوں پر موجود ہیں، اپنے حقوق کے لیے پُرامن آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ آواز بغاوت نہیں، یہ فریاد ہے۔ یہ شور نہیں، یہ اپنائیت کا تقاضا ہے۔ ضلع ساہیوال کی قیادت اس جدوجہد میں صفِ اوّل میں کھڑی ہے۔ذوالقرنین ملک (چیئرمین پارسا پنجاب / وائس چیئرمین اگیگا پنجاب) اپنی جرات مندانہ قیادت اور اصولی موقف کے باعث ملازمین کے دلوں کی آواز بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر موسیٰ عابد جتوئی (مرکزی جنرل سیکرٹری پنجاب ٹیچرز یونین عباسی شہید پنجاب) اپنی فکری رہنمائی اور مدلل مؤقف کے ذریعے اس تحریک کو شعور اور سمت فراہم کر رہے ہیں ـرحمان باجوہ (چیف کوآرڈینیٹر اگیگا پاکستان) کی منظم حکمتِ عملی اور استقامت اس جدوجہد کو مضبوطی عطاء کر رہی ہے۔ یہ قیادت ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اساتذہ اور ملازمین کے وقار، حقوق اور مستقبل کے لیے کھڑی ہے۔ ان کی کاوشیں قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہیں۔ ہم تمام دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس پیغام کو اتنا شیئر کریں کہ یہ آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائے۔ ہماری ماں تک پہنچ جائے۔ تاکہ وہ ہمیں دیکھ سکے، ہمارا بیان پڑھ سکے، اور اپنے بچوں کو سڑکوں پر یوں بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔ یہ صرف احتجاج نہیں، یہ ماں کو پکار ہے۔ یہ صرف مطالبہ نہیں، یہ رشتہ یاد دلانے کی کوشش ہے۔
Tags Dr.Ghulam Murtaza پاکستان پنجاب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ساہیوال لاہور