کراچی، (ویب ڈیسک) گورنمنٹ ڈگری کالج کراچی میں کراچی لیکچررز اینڈ پروفیسرز الائنس (KLPA) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پروفیسر راحیل اختر، پروفیسر زاہد علی منگی، پروفیسر رضوانہ چنا سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کالج ایجوکیشن میں جاری اصلاحات، سروس اسٹرکچر، پروموشنز اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ کالج ایجوکیشن کا شعبہ طویل عرصے سے سروس اسٹرکچر اور پیشہ ورانہ ترقی کے مسائل کا شکار رہا، تاہم وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے باعث ہزاروں اساتذہ کو ترقی کے مواقع ملے ہیں۔ سیکریٹری کالج ایجوکیشن سندھ ندیم میمن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کی سفارشات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مجوزہ 5 ٹئیر پروموشن فارمولے کو اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور کارکردگی کو تسلیم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ گریڈ 21 تک ترقی کے مواقع میں توسیع، میرٹ اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنانا اور سروس اسٹرکچر میں اصلاحات تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ اساتذہ کو منصفانہ مواقع فراہم کرنا ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاہم انہوں نے کلاسز کے بائیکاٹ اور احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے طلبہ کے مفاد کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر فرد کا حق ہے، مگر طلبہ کی تعلیم کو متاثر کیے بغیر مذاکرات اور ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ اجلاس کے اختتام پر تعلیمی نظام کے استحکام، قانونی وضاحت اور طلبہ کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔