چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) بالائی چترال کی خوبصورت وادی اوویر میں قدرتی آبشار سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لانے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ دل مچلانے والی آبشاور پہاڑی کے اوپر سے نیچے جب گرتی ہے تو اس کی نرالی موسیقی سے دل مچل جاتا ہے۔ یہ پانی نہایت ٹھنڈا اور صاف شفاف ہے۔ دودھیا رنگ کا یہ پانی نیچے گر ضائع ہوتا ہے کیونکہ یہ پانی اویر نالے سے ہوتے ہوئے دریائے چترال میں گرتا ہے۔ یہ علاقہ اپنی خوبصورتی میں نہایت نرالی حیثیت رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے اس وادی کی سڑک پل صراط سے کم نہیں ہے۔ حکمران پارٹی کا ضلعی صدر کا بھی تعلق اسی وادی سے ہے مگر شائد وہ بھی اس کی قسمت بدلنے میں کوئی کردار ادار نہ کرسکے۔ تاہم ان کی کوششوں سے اس وادی کیلئے دریائے چترال پر جھولا پل کی بجائے ایک آر سی سی پل منظور ہوا تھا جو پچھلے سال وقت سے پہلے وہ ٹوٹ کر تباہ ہوگیا تھا۔ وادی اوویر کے بالائی علاقوں میں برف پوش پہاڑ اور خوبصورت نظاروں سے سیاح محظوظ ہوتے ہیں مگر وہاں جانے کیلئے راستہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاحت کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس وادی تک پختہ سڑک نہ بنی گئی تو شائد اس کے خوبصورت مناظر سے نہ صرف سیاح لطف اندوز ہوں گے بلکہ اسی سیاحت سے اس علاقے کی قسمت بھی بدل سکتی ہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نواسے محمد اسلم جناح طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے
https://www.nopnewstv.com/founder-of-pakistan-quaid-e-azam/