تازہ ترین
Home / آرٹیکل / اُمید ۔۔۔ تحریر : سپنا اویس ( بہاولنگر )

اُمید ۔۔۔ تحریر : سپنا اویس ( بہاولنگر )


آج بھی روزانہ کی طرح ساحل سمندر پر بہت گہماگہمی تھی۔بھاگتے دوڑے بچے اوڑھتے رنگین آنچل، ٹھیلے والے اپنے ٹھیلے سجائے حاصل روزگار میں مگن ،افق پر ڈھلتے سورج کا دلنشیں منظر جو سمندر کی لہروں کو کندن کی طرح روشن کر رہا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ کسی نے لہروں کو سونے کے رنگ میں رنگ دیا ہو اور لہریں اس خوشی میں بدمست ہو کر ساحل کو چوم رہی تھی ہوا کہ ہلکے جھونکے لہروں کے رخسار کو نرمی سے چھو کر لہروں کو ان کی خوبصورتی کا یقین دلا رہی تھی۔ سرمئی سورج کی کرنوں سے سجا آسمان اور اس پر موجود آوارہ گردی کرتے بادلوں کے ننھے منے ٹکڑے قدرت کے اس حسین نظرے کو مکمل کررہے تھے۔جیسے جیسے سورج رخصت ہو رہا تھا ساحل سمندر کی رونق بھی کم ہوتی جا رہی تھی لوگ اپنی اپنی منزل کی طرف لوٹ رہے تھے۔

مزید پڑھیں: ڈینگی ۔۔۔ تحریر: چندا آمنہّ (قصور)

 

ساحل سمندر پر اب خاموشیوں کا راج تھا۔ایسی خاموشیں جو انسان کی روح تک میں اوتر جاتی ہیں۔ریاض بھی اداسی اور خاموشی سے اپنی ہاتھ گاڑی چلاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ دن با دن بڑھتی ہوئی مہنگائی جوان ہوتی ہوئی بیٹیاں اور روزگار نا ہونے کے برابر۔اے اللہ تعالٰی تونے ہم غریبوں کی زندگی اتنی مشکل کیوں بنائی بھگی پلکوں کے ساتھ ریاض نے اپنے خدا سے شکوہ کیا ۔لیکن ہر دن ڈوبنے والا سورج ہمیں اک نئے کل کی امید دیتا ہے۔ایسی ہی امید لیے ریاض بھی اپنےگھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔اسے امید تھی کہ کل اتوار ہے اور لوگ ضرور ساحل سمندر پر آئیں گے اور میرے سارا سامان سیل ہو جائے گا۔ریاض آنے والا کل کے بارے میں بہت سی امیدیں وابستہ کیے سڑک پار کرنے لگا تو دائیں جانب سے آتی ایک تیز رفتار کار جس میں موجود چند بدمست جوان جو ہفتے کی شام انجوائے کرنے نکلے تھے نے ٹکر مار کر ریاض کی تمام تر امیدوں خوابوں اور سامان کو خاک میں ملا کر جا چکے تھے ۔
کل رات ساحل سمندر کے پاس ورڈ پر ایک ٹریفک حادثہ ایک نامعلوم کار کی ٹکر سے ایک شخص ہلاک۔
مرنے والے صرفِ وہ ایک شخص نہیں تھا اس کا وہ پورا خاندان تھا جس کا وہ واحد کفیل تھا ایک قیامت تھی جو اس خاندان پر آئی تھی ۔ایسی ہی قیامت روز کتنے خاندانوں پر آتی ہے کتنے ہی ریاض روز اپنی بے شمار امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہی دفن ہو جاتے ہیں۔اور گھر کی دہلیز پہ انتظار میں بیٹھی کتنی مایں، بہنیں، بیٹیاں ایک پل میں ہی اپنا سب خو دیتی ہیں ۔اللہ سب کو اپنے خفط و امان میں رکھے۔ آمین۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

After contacting Malaysia’s Foreign Minister, Mohammad Hassan, Rana Basharat Ali Khan halted the deportation of a worker from Malaysia

Title: International Human Rights Movement’s Action: Prevention of Deportation of Worker from Malaysia The International …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے