Home / آرٹیکل / سازشی ٹولہ، پیر محل اور رواداری کی سیاست۔ تحریر: محمد صفدر جٹ

سازشی ٹولہ، پیر محل اور رواداری کی سیاست۔ تحریر: محمد صفدر جٹ

عمران خان نے جب اس مُلک کی باگ ڈور سنبھالی تو حقیقت میں معاشی طور پر کھڑے مُلک کی بُنیادوں کو دیمک نے کھوکھلا کیا ہوا تھا۔ مُلک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور خزانہ خالی تھا۔ عمران خان نے اس مُلک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئیے بہت سے اقدامات کئیے۔ نا چاہتے ہوئے بھی غیر مُلکی قرضوں پہ انحصار کرنا پڑا۔ عمران خان نے غیر ضروری ترقیاتی فنڈ کو روک دیا گیا۔ اس مختصر حکومتی عرصہ میں کسی بھی میگا پراجیکٹ کو لانچ نہیں کیا گیا۔ کمزور معیشت کی بناء پر سی پیک کے بہت سے پراجیکٹ بھی متاثر ہوئے لیکن عمران خان نے اس مُلک کو چلانے کے لئیے اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب سے پوری دُنیا میں کرونا وائرس نے اپنے پنجے جمائے ہیں تو پوری دُنیا کی معشیتیں زمین بوس ہوچکی ہیں۔ کرونا وائرس نے پاکستان کی معیشت کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ ملک کے معاشی ماہرین کے مطابق معاشی استحکام کے لئیے پاکستان کومزید دس سال لگیں گے۔ ایسے میں ہم نے دفاعی بجٹ کم کردیا ہے۔ تعلیم کا بجٹ کم کردیا ہے اور صحت کے شعبے میں پر طرف سے پیسے لگانے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔
یہ تو تھی مُلک کی مجموعی معاشی صورتحال جس سے حکومت نبرداآزما ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی ایم این اے اور ایم پی اے کو ترقیاتی کام کے لئیے فنڈز جاری نہیں کئیے گئے۔ جب حکومت کے پاس فنڈز ہی نہیں ہونگے تو ترقیاتی کام کیونکر اور کیسے ہونگے؟ شاید ہمارے شہر کے لوگوں نے اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے۔
پچھلے کچھ عرصہ سے میرے محترم ایم این اے ریاض فتیانہ صاحب کے خلاف چند شرپسند ن لیگی ایجنٹوں اور اس میں شامل تحریک انصاف کے چند لوگوں نے کردار کُشی کی وہ مُہم شروع کی ہوئی ہے جس کی نہ کوئی بنیاد ہے ، نہ کوئی سر اور نہ کوئی پیر۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے بالکل ویسے ہی اس کردار کُشی کے لئیے کوئی بھی معقول جواز انکے پاس نہیں ہے۔
کبھی کہا گیا کہ ریاض فتیانہ تحریک انصاف میں جہانگیرترین کے لئیے ایک باغی گروپ تیار کررہا ہے۔ یہ شوشہ پہلے ایک مقامی ن لیگی نے چھوڑا جس کے بعد تحریک انصاف میں ن لیگ سے ہمدردی رکھنے والوں لوگوں نے اُسے پروان چڑھانا شروع کردیا۔ ان دونوں شرپسند گروپوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ ریاض فتیانہ کو اس حلقے سے باہر کیا جائے اور یہ علاقہ ہمیشہ کے لئیے ایک بدتمیز، بداخلاق ن لیگی رہنما کے سُپرد کردیا جائے جو عام عوام کو گالیاں سرعام دیتا ہے۔ جس کے دروازے ہر قسم کے سائل کے لئیے بند رہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی مجبور ہوکر چلا بھی جائے تو ننگی گالیوں سے توازع کرکے دھتکار دیا جاتا ہے۔
جب اس شرپسند گروپ نے دیکھا کہ نہ تو تحریک انصاف میں کوئی باغی گروپ کھڑا ہورہا ہے اور نہ ہی عوام کی طرف سے ہمارے منفی پروپیگنڈے کو تقویت مل رہی ہے تو اُنہوں نے ایک الزام لگادیا کہ پیرمحل کا ہر پراجیکٹ کمالیہ لے جایا جارہا ہے۔ پوری دُنیا میں نسل پرستی، علاقہ پرستی کے تعصب کو ہمیشہ سے پزیرائی ملی ہے۔ اور یہ شرپسند ٹولہ بھی اسی کوشش میں مسلسل لگا ہوا ہے کہ نفرت کے ایسے بیج بودئیے جائیں کہ جس کی آگ میں یہ پورا علاقہ لپیٹ میں آجائے۔
جب اس شرپسند ٹولہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کونسا پراجیکٹ کمالیہ لے جایا گیا ہے؟ توآگے سے بے شرمی سے یہ دانت نکالنے لگ جائیں گے یا صرف اتنا کہیں گے کہ ایک پراجیکٹ آیا تھا اسی کروڑ کا، ایک پینسٹھ کروڑ کا یہ سارے پراجیکٹ کمالیہ لے جائے گئے ہیں۔ جب پراجیکٹ کی تفصیل پوچھی جاتی ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میں اوپر تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ ملک میں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں ہورہا ہے جب بجٹ میں ترقیاتی فنڈ ہی موجود نہیں ہے تو کونسا پراجیکٹ اور کہاں کا پراجیٹ۔
جب اس بے شرم سازشی ٹولہ کو یہاں سے بھی موثر جواب ملا تو انہوں نے پھر ن لیگی گروپ سے رجوع کیا کہ اب کیا کریں۔ بالکل ویسے جیسے شیطان کے چیلے کسی بھی مشکل میں شیطان کے در پر حاضری دیتے ہیں۔ اب تو ہر طرف سے ہمیں مونہہ کی کھانی پڑرہی ہے؟ تو ن لیگی سازشی ٹولہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہے۔ یہ یوای ٹی کا ایشو لیں۔ اسے عوام میں نمایاں کریں۔ جی ہاں یہ وُہی ایشو ہے جسے ن لیگ کی حکومت بھی اپنے دوراقتدار میں منظور نہ کرواسکی۔ اب عوام کو یو ای ٹی کی سازشی تھیوری کے پیچھے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مقصد علاقہ کی تعمیروترقی نہیں ہے، مقصد یہاں کے بچوں کوعلم کی روشنی سے منور کرنے کا نہیں ہے بلکہ مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی طرح سے عوام میں ریاض فتیانہ کی مقبولیت کو کم کیاجائے اور ن لیگ کے بدتمیز لیڈر کو نمایاں کرکے پیش کیاجائے۔ بس ایک ہی کوشش ہے کہ کسی طرح سے علاقے میں ریاض فتیانہ کے سر پر ایسے ایسے جرائم تھوپ دئیے جائیں کہ علاقہ میں کوئی اُس کا نام لینے والا نہ ہو۔
ریاض فتیانہ صاحب ایک بار نہیں بلکہ بار بار اپنے اس موقف کو دُہراچکے ہیں کہ ایک ایم این اے کی حیثیت سے میری جہاں پر ضرورت ہے میں حاضر ہوں۔ لیکن اگر یہ سازشی ٹولہ یوای ٹی کے معاملہ میں سنجیدہ ہو تو یہ ایک وفد بنائیں اور ریاض فتیانہ صاحب کو ساتھ لے کر گورنر پنجاب سے ملاقات کریں۔ یہ تعمیری کام کرنے میں اپنا ایک فی صد بھی حصہ نہیں ڈال رہے لیکن تخریبی کاروائیوں میں پیش پیش ہیں۔ ریاض فتیانہ صاحب نے اُن کے بھانجے کشف ریاض اللہ صاحب کے ہمراہ گورنر پنجاب سے اس معاملے پر تفصیلی درخواست بھی پیش کرچکے ہیں جو کہ ابھی تک منظور نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن افسوس یہ سازشی ٹولہ دن رات ریاض فتیانہ صاحب کی کردار کُشی کے لئیے پیش پیش ہے۔ گھوم پھرکر آئیں گے اور کہیں گے چلو جی یو ای ٹی کی بات کرو۔ جب دلائل پیش کئیے جائیں تو سُن لیں گے وقتی طور پرشرمندہ بھی ہونگے لیکن پھر دوسرے دن اپنی جاہلیت کا ٹوکرا اُٹھائے آجائیں گے اور کہیں گے کہ یوای ٹی کی بات کرو۔
میرے پیارے پیرمحل میں ریاض فتیانہ صاحب ایک انڈسٹریل اسٹیٹ کا پراجیکٹ لے کر آئے جسے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنی والی تحریک انصاف کی قیادت نے اُسے ٹوبہ شفٹ کروالیا۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہ سازشی ٹولہ کبھی بھی انڈسٹریل اسٹیٹ کا نام نہیں لے گا۔ ہر بار جب بھی یہ آئیں گے تو منافقت کے مارے ایک ہی بات کریں گے کہ یو ای ٹی پر بات ہوگی۔ شاید انڈسٹریل اسٹیٹ کا نام لیتے ہوئے ان منافقوں کے مونہہ میں چھالے پڑتے ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ جب انڈسٹریل اسٹیٹ کا نام لیں گے تو اس بڑے منصوبے کو لانے کا کریڈٹ ریاض فتیانہ کو دینا پڑے گا۔ چونکہ مقصد ریاض فتیانہ صاحب کی کردار کُشی ہے اس لئیے یہ اُن کے تمام سابقہ اور موجودہ ترقیاتی کاموں کا نام کبھی نہیں لیں گے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ پورے پیرمحل میں ایک بھی ڈگری کالج نہیں ہے۔ یہ سازشی ٹولہ اگر تعلیم کے ساتھ اتنا ہی مخلص ہے تو ڈگری کالج کے قیام کو پہلے یقینی بنائیں اُس کے لئیے اپنی آواز کو بُلند کریں۔ یہ بالکل ایسے ہی کہ بچے میٹرک کے بعد پیرمحل کو چھوڑ دیں اور اپنی انٹر اور گریجوئیشن دوسرے شہروں سے مکمل کریں اور پھر واپس آئیں یوای ٹی کیمپس میں داخلہ لیں۔ جب اس سازشی ٹولہ کو کہا جاتا ہے کہ یوای ٹی کیوں ضروری ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ہمارے بچے دوسرے شہروں میں جا کر پڑھتے ہیں اگر یہی یونیورسٹی پیرمحل میں موجود ہو تو ہمارے بچے شہر سے باہر نہیں جائیں گے۔ لیکن آپ یہ دیکھیں کہ اس سازشی ٹولہ کو ہمارے وہ بچے بالکل بھی نظر نہیں آتے جو میٹرک کے بعد انٹر اور گریجوئشن کے لئیے دوسرے شہروں میں دھکے کھاتے ہیں۔ جب بھی ان سے کہا جائے کہ ڈگری کالج کی آواز بُلند کرو تو یہ ان کی زبانیں خاموش ہوجاتی ہیں۔
میرے پیرمحل میں ہسپتال کے ایمرجنسی کے شعبہ کو اپ گریڈیشن کی ضرورت ہے۔ جو مریض آتا ہے اُسے ٹوبہ ریفر کردیا جاتا ہے۔ یہاں کوئی ماہر سرجن تعینات نہیں ہے۔ کوئی بھی اس واسطے اپنی آواز بُلند نہیں کررہا ہے۔
میرے شہر میں ریسکیو ون ون ٹو کی بلڈنگ مکمل ہوچکی ہے لیکن یہاں پر عملہ تعینات نہیں کیاجارہا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ کسی بھی ناگہانی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس ٹوبہ سے آتی ہے اور بہت سے مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں۔ لیکن افسوس اتنے اہم مسئلے پر آواز بُلند نہیں کی جاتی بلکہ مصلحت کی چادر اوڑھ لی جاتی ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت اس وقت اپنے ایم این اے ریاض فتیانہ صاحب کے ساتھ کھڑی ہے اور یوای ٹی کیمپس کے قیام کے لئیے کوشاں ہے۔ کوئی بھی اس کیمپس کا مخالف نہیں ہے۔ میرا چیلنج ہے کہ پوری قیادت میں کسی ایک رہنما کا کوئی ایک بیان دکھا دیں جو یوای ٹی کیمس کے خلاف ہو؟ لیکن دوسرے تمام اہم مسائل کو نظر انداز کرکے یہ سازشی ٹولہ صرف یوای ٹی کی بات کرتا ہے تاکہ اس مدعے کو ریاض فتیانہ کی کردار کُشی اور پگڑی اچھالنے کے لئیے پروپیگنڈا کے لئیے استعمال کیا جائے۔
میری یہ دھرتی پیارمحبت کی دھرتی ہے، بھائی چارے اور رواداری کی دھرتی ہے یہاں نفرت کے بیج مت کاشت کرو۔ ہم اپنے علاقے میں نفرت کا بیوپار کبھی نہیں ہونے دینگے۔ تم نے اس محبت کے علاقے میں گالی گلوچ کی سیاست کو متعارف کروانے کی کوشش کی اس علاقے کے غیرت مند لوگوں نے تمہاری گالی گلوچ کی سیاست اللہ ہو چوک میں دفن کردی۔ پورے علاقے نے تمہاری گالی گلوچ کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ تم نے کیا سمجھا تھا کہ چند گالیاں دے کر تم لوگ اپنے جھوٹے رُعب کی دھاک اس علاقے پر بٹھا لوگے؟ یہ تمہاری غلط فہمی تھی۔ یہ علاقہ امن اور رواداری کا گہوارہ ہے اور مجھے فخر ہے کہ تاریخ کا مورخ جب اس علاقے کی تاریخ لکھے گا تو ہمارا نام ہمیشہ سے امن پسندوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔
دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا
پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دبنا، کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مر جانا، سچ ہی لکھتے جانا

 

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں ریبیز: ایک قابلِ روک تھام سانحہ جو فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے ۔۔۔ تحریر: اسود خان

ریبیز ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ نظرانداز شدہ زونوٹک بیماریوں میں سے ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے