تازہ ترین
Home / آرٹیکل / برقی پھول اب بھیج دئیے جاتے ھیں ہمیں ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

برقی پھول اب بھیج دئیے جاتے ھیں ہمیں ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

<<<نظم>>>

برقی پھول اب بھیج دیئے
جاتے ھیں ہمیں تحفے میں
تیری مصروفیات لے چلیں
ھیں بازی ہماری محبت پر۔۔۔
تمھیں یاد ھے ناں "جاناں”۔
وہ سردیوں کی ٹھنڈی رات ۔۔۔
جب میرے لئے گلاب کا پھول
لئے تم گھنٹوں بالکونی کے
نیچے کھڑے رھے،
وہ بھی تو مُحبت تھی ۔۔۔
ھاں!! یہ بھی مُحبت ھے،
بس نسبتیں بدل گئیں،
چال ڈھال بدل گئی ۔۔۔
ہم آج بھی وہی ھیں پر اب
ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔۔۔
میری اِک جھلک دیکھنے کے
واسطے تم اب میری بالکونی
کے نیچے انتظار میں کھڑے
بیقرار نہیں پائے جاتے۔۔۔
مُجھے معلوم ھے وقت ایک
سا نہیں رہتا مگر تم سے تو
توقعات ہی میری کُچھ ایسی
تھیں کہ، میں اس گلاب کے ساتھ
تمھارے ہاتھوں کی ٹھنڈک
محسوس کرنا چاہتی ۔۔۔
نہ کہ کسی مہنگی کلی میں اِسے
لِپٹا دیکھنا چاہتی تھی، تجھے اپنی
چاہتیں تو یاد ھیں اب بھی۔۔۔
بس، بھول گئیں ھائے۔۔۔!!!۔
وہ میری چاہتیں تم سے وابستہ ۔۔۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

غزہ: انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا زخم جو کبھی نہیں بھر سکے گا: محمد احسان، رضا احمد، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

انسانیت، امن اور انصاف کا تقاضا ہے کہ بے گناہ شہریوں کے جان و مال …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے