<<<نظم>>>
برقی پھول اب بھیج دیئے
جاتے ھیں ہمیں تحفے میں
تیری مصروفیات لے چلیں
ھیں بازی ہماری محبت پر۔۔۔
تمھیں یاد ھے ناں "جاناں”۔
وہ سردیوں کی ٹھنڈی رات ۔۔۔
جب میرے لئے گلاب کا پھول
لئے تم گھنٹوں بالکونی کے
نیچے کھڑے رھے،
وہ بھی تو مُحبت تھی ۔۔۔
ھاں!! یہ بھی مُحبت ھے،
بس نسبتیں بدل گئیں،
چال ڈھال بدل گئی ۔۔۔
ہم آج بھی وہی ھیں پر اب
ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔۔۔
میری اِک جھلک دیکھنے کے
واسطے تم اب میری بالکونی
کے نیچے انتظار میں کھڑے
بیقرار نہیں پائے جاتے۔۔۔
مُجھے معلوم ھے وقت ایک
سا نہیں رہتا مگر تم سے تو
توقعات ہی میری کُچھ ایسی
تھیں کہ، میں اس گلاب کے ساتھ
تمھارے ہاتھوں کی ٹھنڈک
محسوس کرنا چاہتی ۔۔۔
نہ کہ کسی مہنگی کلی میں اِسے
لِپٹا دیکھنا چاہتی تھی، تجھے اپنی
چاہتیں تو یاد ھیں اب بھی۔۔۔
بس، بھول گئیں ھائے۔۔۔!!!۔
وہ میری چاہتیں تم سے وابستہ ۔۔۔