میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) ضلع کونسل میرپورخاص کا اجلاس کونسل کے وائس چیئرمین میر احمد خان تالپور کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں زرعی مسائل کو حل کرنے کے متعلق تفصیلی غور خوص کیا گیا اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سید عطااللہ شاہ، کونسل کے اراکین اور افسران نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین نے یقین دلایا کہ ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ افسران کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا اور کہا کہ زرعی مسائل سے بخوبی واقف ہیں عوام کے مسائکل جائز ہیں ہمیں اداروں کی بہتری اورمسائل کے حل کیلئے آپس میں رابطہ میں رہنا چاہئے اس سے قبل کونسل کے اراکین نے زراعت، پانی اور دیگر بنیادی مسائل کے متعلق کہا کہ کہ مل مالکان کی جانب سے کاشتکاروں کو گنے کے مقررہ نرخ نہ ملنے کی وجہ سے کاشتکار تباہ ہورہے ہیں ڈھل سمیت بنکوں، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کے قرض کی وجہ سے معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں پانی کی کمی، جعلی ادویات اور غیر معیاری بیج کی وجہ سے گنا کپاس اوردیگر فصلیں تباہ ہورہی ہیں انہوں نے کہ مطالبہ کیا کہ جعلی بیج اورادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے پانی کی کمی کو ختم کیا جائے 15روز کی بندش ہونے کے باوجود 2 ماہ تک پانی نہیں دیا جاتا ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچرسترام داس نے کہا کہ حکومت سندھ نے زراعت کی بہتری کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں ورلڈ بنک کی تعاون سے کاشتکاروں کو ٹریننگ کروائی ہے مرچوں کے معیار کو بہتر کرنے کیلئے4500 گرین شیٹ، مرچوں کو نمی سے بچانے کیلئے 800 شیٹ اور زمین کو اسپرے کرنے کیلئے7743 پاور اسپرے رعایتی قیمت پر دئے گئے ہیں جبکہ سندھ کے 12 اضلاع کے کاشتکاروں کو 1000 آٹو رکشہ قرعہ اندازی کے زریعے دیے گئے ہیں جو رعایتی قیمت اداکرنے کے بعد حوالے کئے جائیں گے اس موقع پرایگرکلچر آفیسر گہرام بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا دنیا میں مرچ کی پیداوار میں 5 واں اور کپاس کی پیداوار میں چوتھا نمبر ہے پوری دنیا کو سندھ نے زراعت سکھائی اورآج ہماری زراعت ہی تباہ ہو رہی ہے سندھ میں پانی کی کمی کی وجہ سے کھیتوں میں کمی اورباغات میں اضافہ ہورہا ہے۔
![]()