کراچی، (ویب ڈیسک) ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن و ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ کے موضوع پر منعقدہ چار روزہ نواں بین الاقوامی سمپوزیم cum ٹریننگ کورس جمعرات کو بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں اختتام پذیر ہوگیا۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز اسماعیل راہو نے کہا کہ "سائنس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی”، جو اس شعبے کی عالمی اور غیر سرحدی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی علم تجسس، شواہد اور سچ کی تلاش پر قائم ہے، اور یہی اقدار قومیت، ثقافت، زبان اور جغرافیے سے بالاتر ہوکر پوری انسانیت کو یکجا کرتی ہیں۔
اسماعیل راہو نے مالیکیولر میڈیسن کو موجودہ دور کے اہم ترین سائنسی شعبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے آئی سی سی بی ایس کی جانب سے بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے منتظمین اور شریک قومی و غیر ملکی ماہرین کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علم وہ واحد کلید ہے جو انسانیت کو درپیش مسائل کے حل میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محققین اور سائنس دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی خدمت کریں اور ملک کو پائیدار معاشی و سماجی ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ انہوں نے بین الاقوامی سائنسی پروگرام میں بھرپور شرکت پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے فیکلٹی، عملے، طلبہ، رضاکاروں اور خاص طور پر پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اس بین الاقوامی ایونٹ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سمپوزیم شرکاء، بالخصوص نوجوان اسکالرز کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور دنیا بھر کے سائنس دانوں کے درمیان تحقیق کے مضبوط روابط کو فروغ دے گا۔ تقریب میں انہوں نے وزیر کو آئی سی سی بی ایس کی تحقیقی و تعلیمی کامیابیوں پر مشتمل ایک پریزنٹیشن بھی پیش کی۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس بین الاقوامی سمپوزیم میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے 600 سے زائد سائنس دانوں نے شرکت کی، جن میں بینن، بنگلہ دیش، کیمرون، کینیڈا، چین، مصر، ایتھوپیا، سویڈن، عراق، اٹلی، اردن، لبنان، ملاوی، ملائشیا، موریتانیا، نیپال، نائیجیریا، قطر، سعودی عرب، سوڈان، عمان، تھائی لینڈ، برطانیہ، امریکا، یوگنڈا اور یمن سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
سمپوزیم کا بنیادی مقصد مالیکیولر میڈیسن کے میدان میں عالمی ماہرین کو یکجا کرنا اور سائنسی تعاون کو فروغ دینا تھا۔