کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایک مال بنانے والی اٹھارٹی بن چکی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے زمینوں کے قانونی اور غیر قانونی سے متعلق تفصیلات کیلئے عوام کو کوئی ہیلپ لائن میسر نہیں ہے۔ ہیلپ لائن کے ذریعے لوگوں کو قانونی اور غیر قانونی تعمیرات کی معلومات مل سکیں گی۔ سندھ کے عوام پریشان ہیں کراچی میں لوگ اپنا قیمتی سرمایا لگانے سے خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ کراچی میں نسلہ ٹاور جیسی کئی عمارتیں تعمیر کی گئی غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے ایس بی سی اے کے کرپٹ حکمران شامل ہیں۔ خرم شیر زمان نے ان خیلات کا اظہار چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ سے ملاقات کی، ملاقات میں سندھ کے اداروں کی کارکردگی، نیب کیسز میں ملوث افسران کی عہدوں پر تعیناتی، تبادلے، تقرریاں اور دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی، خرم شیر زمان نے ملاقات میں بحیثیت اپوزیشن ممبرانِ اسمبلی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خرم شیر زمان کے ہمراہ رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر، سمیر میر شیخ، عدنان اسماعیل موجود تھے۔ میڈیا سے گفتگو میں خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ دن بدن زور پکڑ رہا ہے ادارے مال بناکر بلاول ہاؤس بھیج رہے ہیں کراچی میں ایک نہیں درجنوں نسلہ ٹاور موجود ہیں۔ سندھ میں عوام کی دادرسی کا کوئی فورم نہیں ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے پی پی 13 سالوں میں اداروں کو ڈیجٹلائز نہیں کرسکی، لگتا ہے بلاول زرداری خود اس لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ اداروں میں کروڑوں روپے کا رشوت کا دھندہ چل رہا ہے۔ ہم نے آج چیف سیکریٹری سے سسٹم کو ڈیجٹل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس تمام معاملے میں بلاول کی نااہلی ہے۔ پی پی کے تمام منسٹر دو نمبری میں ملوث ہیں، یہاں فائلوں کی ہیر پھیر بہت آسان ہے بلاول زرداری اور آصف علی زرداری اس بدانتظامی پر کیوں خاموش ہیں۔ یہاں ایک خراب سسٹم ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کو مفلوج کردیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ بقول چیف سیکریٹری کے جن افسران پر نیب کے کیسز چل رہے ہیں وہ اپنے عہدوں پر نہیں ہیں۔ نیب کو اپنے اندر مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ جن افسران کیخلاف نیب تحقیقات کررہی ہے ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی؟ 16 گریڈ اور 17 گریڈ کے افسران کے ڈیفنس میں بڑے بڑے بنگلے موجود ہیں۔ نیب ان سے سوال کرے کہ یہ اثاثے انہوں نے کیسے بنائے نیب سے عوام کو بہت امیدیں ہیں۔ نیب عوام کا ٹیکس کا پیسہ واپس لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک پی پی کی حکومت سندھ میں رہے گی سندھ کے لوگوں کو ریلیف ملنا ناممکن ہے۔ سندھ کے لوگ پینے کے پانی، ہسپتالوں میں علاج اور اسکولوں میں تعلیم کیلئے ترس رہے ہیں۔ یہاں کرپشن کا بازار گرم ہے سندھ کے اداروں کو فعال بنانے کیلئے پی پی کی حکومت کا خاتمہ ہم یقینی بنائیں گے۔