کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کے صدر سلیم الزماں نے کہا ہے کہ امید ہے حکومت صنعتوں کے نجی پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کے مطابق عمل درآمد کروائے گی اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے صنعتکاروں کی مشاورت سے جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو گورنر سندھ کی صدارت میں سندھ صنعتی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صنعتوں کے نجی پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے واضح کیا ہے کہ بجلی کی قلت اور دستیابی کی صورت حال اور صنعتوں کی ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی جاری رکھی جائے گی اور کے الیکٹرک صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے گی۔ سلیم الزماں نے کہا کہ اس سے قبل کابینہ کے فیصلے سے یہ تاثرقائم ہوا تھا کہ صنعتوں کو یکم فروری سے یکسر گیس کی فراہمی روک دی جائے گی جس کے باعث صنعتکاروں اور برآمداتی آرڈرز دینے والے غیر ملکی کلائنٹس میں تشویش پھیل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کی گیس کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، جس طرح اس مسئلے کو افہام تفہیم سے سلجھایا گیا اور بروقت غلط فہمیاں دور کردی گئیں، اس کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک جامع پالیسی فریم ورک پر کام کرنے کی ضرورت ہے، صنعت کاروں نے پیدواری عمل کو جاری رکھنے اور مصنوعات کے معیار کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے پاور پلانٹس پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کے الیکٹرک کو فوری مطلوبہ انفرااسٹرکچر بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے جو کہ ہمارے دیرینہ مطالبات میں شامل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صنعتوں کو نجی شعبے سے براہ راست ایل این جی کی خریداری کے لیے تھرڈ پارٹی سپلائرز کو اجازت دینے اور نئے کنیکشن کے چارچز کم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اس حوالے سے صنعتوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ صنعتی پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی سے متعلق حکومتی وضاحت اور یقین دہانیاں تسلی بخش ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرے گی۔ صدر کاٹی کا کہنا تھا کہ صنعتی مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ہر پندرہ روز میں ایک بار سندھ صنعتی رابطہ کمیٹی کے اجلاس پر بھی اتفاق ہوا ہے، اس فورم کو متحرک رہنا چاہیے، اس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور سابق صدر کاٹی زاہد سعید نے اسے ایک موثر فورم بنانے میں بنیادی کردارادا کیا ہے۔ سلیم الزماں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے صنعتی فروغ اور برآمدات میں اضافے کے وژن کے ساتھ ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ صنعتوں سے متعلق حکومتی پالیسیاں اس وژن کی عکاسی کریں گی۔
![]()