کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا بھر، بالخصوص پاکستان میں کرپشن اور مہنگائی کو فروغ دینے کی ذمہ دار ہیں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیز پاکستان میں اپنی کم معیار کی اشیاء مثلا موٹر سائیکلیں، کاریں، تیار فوڈ اور ادویات وغیرہ کی قیمتیں ساؤتھ ایشیاء اور مڈل ایسٹ کے ممالک کے مقابلے میں زیادہ کیوں وصول کرتی ہیں؟ پٹرولیم کی قلت کی وجہ سے اربوں روپے کے بزنس کا نقصان ہوا، لوگوں کو شدید گرمی میں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، ذمہ دار کمپنیوں کو معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا گیا اور وہ یہ جرمانہ بھی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو من مانیوں سے روکنے کے لئے ملکی اور قومی مفاد میں مکمل قانون سازی کی جائے اور لوٹ کھسوٹ کے ذریعے عوام کی دولت بیرون ملک لے جانے والی ان مافیاز کے اوپر آہنی ہاتھ ڈال کر ان سے سختی سے نمٹا جائے۔ پٹرولیم کا جان بوجھ کر بحران پیدا کرنا اور ناجائز منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی کرنا معمولی نہیں سنگین نوعیت کے جرائم ہیں، ان کی سزا بھی عبرت ناک ہونی چاہئے۔ ملٹی نیشنل کمپنیز کو ناجائز منافع خوری کی چاٹ لگ گئی ہے، وہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کی عادی ہو چکی ہیں۔ تیل کے بحران میں جن کمپنیوں پر جرمانہ ہوا ہے ان کی ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف کورٹ میں چلی گئی ہیں حالانکہ ان پر لگایا گیا جرمانہ مونگ پھلی کے دانے جتنا ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا مطالبہ ہے کہ حکومت جرمانے کی مقدار کو کم از کم دس سے ضرب دے کر اضافہ کرے۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے مزید کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کی طرح کا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیز پر مشتمل یہ انٹرنیشنل مافیاز پاکستان اور یہاں کے غریب عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں۔ نوے فیصد نوکریاں ایس ایم ایز (اسمال اینڈ میڈیم سائزڈ اینٹر پرائزز) پیدا کرتے ہیں اور ناز ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اٹھائے جاتے ہیں جو بھاری منافع اور مینجمنٹ فیس کی مد میں کثیر رقم بیرون ملک اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔ الطاف شکور نے سوال کیا کہ ہماری عدالتیں، کابینہ اور وزارتیں کب تک سرکاری اداروں کے چیف ایگزیکٹوز کو ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہیں گی؟ ابھی بھی متعلقہ وزارت، اوگرا اور مونوپولی کمیشن آنکھیں کھول لے۔ کیا مونوپولی کمیشن صرف مقامی کمپنیوں کو جرمانہ عائد کرنے کے لئے بنا ہے؟ سرکاری اداروں کی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھی آڈٹ کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ جب مارک زکربرگ کو امریکہ کی سینیٹ جواب دہی کے لئے طلب کر سکتی ہے تو ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے براؤن صاحبان کو کیوں نہیں طلب کیا جا سکتا؟ نیب ذمہ دار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کوحراست میں لے کر انکوائری کرے۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر کی طرح کا معاملہ آخر کب تک چلے گا؟ ماہر اور محب وطن انجینئرز کو حکومت میں اعلی مناصب دئیے جائیں تاکہ وہ تکنیکی معاملات پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کرتا دھرتاؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ اور دفاع کر سکیں اور انہیں لگام دے سکیں۔ یہ کام موجودہ سرکاری بابوؤں کے بس کا نہیں ہے۔ الطاف شکور نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ہماری انگریز بیوروکریسی انگریزی محاورے کے مطابق گاجر اور ڈنڈے کا استعمال کرنا سیکھ جائیں ورنہ کب تک غلام ذہنیت کے ساتھ ڈر ڈر کر جیئں گے۔ "جیجا کے مال پر سالے رکھوالے کا کھیل اب بند ہونا چاہئیے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: چترال میں بجلی گھر میں مزدوری کرتے ہوئے تین مزدور پریشر کوکر اور گھریلو سلنڈر پھٹنے سے جھلس کر شدید زخمی
https://www.nopnewstv.com/three-workers-we…eriously-injured/