کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ تمام ہسپتالوں کو کرونا کے مریضوں کے مفت علاج کے لئے لازمی پابند کیا جائے۔ حکومت بحران سے نمٹنے کے لئے حقیقت پر مبنی پلان تیار کر کے قومی سطح پر نافذ کرے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہنگامی بنیادوں پر ٹریننگ دی جائے۔ تمام ہسپتالوں کو کرونا کے مریضوں کے مفت علاج کا پابند کیا جائے، حکومت اس وباء سے اکیلے نہیں نپٹ سکتی۔ خدانخواستہ ووہان جیسی صورتحال پیدا ہو لیکن حکومت پیشگی منصوبہ بندی کرے اور بھرپور عوامی آگاہی مہم چلائے۔ ملک کو مکمل آئسولیٹ کیا جائے کیونکہ کرونا کے مکمل اثرات دو سے تین ماہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ کرونا کی وجہ سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کی روزانہ فی کس آمدنی پانچ سو روپے سے کم ہے، حکومت ایمرجنسی ریلیف کے طور پر ایسے تمام خاندانوں کو ماہانہ راشن فراہم کرے۔ علاوہ ازیں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حکومت کمپنیوں کو ملزمین کے لئے” ورک فرام ہوم” کی سہولت دینے کا پابند کرے۔ جن ملازمتوں میں ہوم ورک ممکن نہیں ان میں ملازمین کو کرونا وائرس رسک الاؤنس دیا جائے۔ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں کرونا وائرس کی سنگینی، اقدامات اور ممکنہ حفاظتی تدابیر اورعوام کے اندر بیداری ء شعور پر مبنی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ کرونا کے سلسلے میں اب تک حکومت زبانی جمع خرچ اور نمائشی اقدامات کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ موجودہ حکومت میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کی صلاحیت مفقود ہوگئی ہے۔ کاش کرونا وائرس مہنگائی کو لگ جائے اور عام آدمی کو سکھ کا سانس مل جائے۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کرونا ویکسین بنانے پر انعام کا اعلان کیا ہے، وڈیرہ وائرس کی ویکسین پر بھی کوئی اعلان کیا جائے۔عمران خان اور مراد علی شاہ اپنی حکومتیں کرونا وائرس کے حوالے کر دیں، وہ ان سے زیادہ با صلاحیت نظر آرہا ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں اب تک کرونا وائرس کے خوف کے علاوہ عوام کو کچھ بھی نہیں دے سکیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی حکومتوں کو کرونا وائرس راس آرہا ہے، عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے غریبوں کے روزگار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ حکومت ایسے لوگوں کو فاقے سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کی پہلے سے بڑھ کر اعانت کریں۔ آئی ایم ایف نے متاثرہ ممالک کے لئے پچاس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے، اب سمجھ آیا ہے کہ حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کیوں نافذ کی ہے؟ کرونا وائرس جیسی مہلک اور جان لیوا بیماری سے نپٹنے کے لئے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے الطا ف شکور نے کہا کہ کرونا کے باعث اس وقت اٹلی کو مکمل لاک ڈااؤن کا سامنا ہے، یہ صورتحال پورے یورپ میں پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے اگر پاکستان میں بھی کرونا وائرس واقعی سنگین نوعیت رکھتا ہے تو اس مشکل سے نپٹنے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں۔
![]()