میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص سے پندرہ روز قبل اغوا ہونے والے نوجوان مہتاب نوندانی کو قتل کرنے کا انکشاف۔ لڑکی نے فون پر عشق کے جال میں پھنسا کر اغوا کرایا۔ پولیس نے سہولت کاروں اور اغوا برائے تاوان میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق 25 نومبر 2019 کو میرپورخاص کے نوجوان مہتاب نوندانی ولد حاجی محمد حسین نوندانی کو اغوا کار گروہ نے لڑکی کے آواز میں بلا کر تعلقہ پولیس اسٹیشن کی حدود بائے پاس روڈ سے اغوا کیا۔ اس واقعے کا مقدمہ دہشتگردی اور اغوا کے تحت کے مغوی مہتاب علی نوندانی کے والد زاہد نوندانی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق عظمیٰ نامی اغوا کار اور انکے ساتھی دو کاروں میں سوار ہوکر مغوی کو بائے ہاس روڈ بلا کر اغوا کرکے لیکر گئے۔ اس سلسلے پولیس نے خصوصی تفشیشی سیل تشکیل دیا گیا تھا اس سیل میں ڈی ایس پی سٹی منظور کھوسو، انچارج سی آئی اے انسپیکٹر غلام حسین سدھایو، ایس ایچ او تعلقہ اسلم جاگیرانی، ایس ایچ او محمود آباد افتخار باجوہ اور عنایت زرداری شامل تھے۔ پولیس کے مطابق اغوا کاروں نے افغانستان کے نمبر سے کال کرکے مغوی کے ورثاء سے دو کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا۔ پولیس کی ٹیم نے حساس ادارے کے تعاون سے اغوا کاروں کا سراغ لگا کر بین الصوبائی گینگ کی اغواء کاروں خاتون عظمیٰ، شہزاد علی عرف شہزادو خان کو کراچی سے گرفتار کیا اور واردات میں استعمال ہونے والی کار نمبر (ای ايس ايم 203) کو برآمد کیا۔ پولیس نے میرواھ گورچانی کے رہائشی اور واردات کے سہولتکارں مختيار ولد رمضان خاصخيلی کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر اغوا کار گرفتار ہوئے۔ اغوا کار خاتون عظمیٰ نے پولیس کو بتایا کہ مہتاب کو قتل کرکے لاش دریائے سندھ میں پھینک دی ہے۔ پولیس نے لاش کی تلاش شروع کردی ہے اور مزید گرفتاریاں ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
![]()