کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے پولیس کوجاری احکامات میں کہا ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے جملہ اقدامات پر عمل درآمد کو انتہائی مستعد اور الرٹ رہتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لعل شہباز قلندرؒ کے مزار اور اسکے اطراف کے علاقوں میں کڑی نگرانی، بم ڈسپوزل اسکواڈ سے سوئپنگ اور کلیئرنس سمیت انٹیلی جینس کلیکشن اور شیئرنگ اور بروقت فالو کرنے کے عمل کو ہرسطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرتب کردہ غیر معمولی سیکیورٹی پلان کی جملہ ترجیحات اور اسکے تحت مزار کے داخلی روٹ پر عرس کے شرکاء کی فزیکل سرچنگ کے عمل کو منتظمین کی جانب سے مقرر کردہ رضاکاروں کے تعاون سے ممکن بنایا جائے جبکہ اس عمل کے دوران خواتین پولیس اہلکاروں کی خدمات کو بھی یقینی بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ کے تمام شہروں اور دیگر صوبوں سے عرس کی تقریبات میں زائرین و عقیدت مندوں کی ایک کثیر تعداد میں شرکت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مزار کے اندرونی اور اطراف کے حصوں میں منتظمین کی مشاورت سے مجموعی سیکیورٹی امور کو غیر معمولی بنایا جائے۔ علاوہ اذیں مزار کے اطراف اور مزار کی مرکزی شاہراہ پر کسی بھی قسم کی پارکنگ کو ممنوع رکھا جائے جبکہ زائرین اور قافلوں کی گاڑیوں کے لیئے پارکنگ لاٹس مزار سے ناصرف مناسب فاصلوں پر مختص کی جائے بلکہ پارکنگ لاٹس پر کڑی نگرانی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ سے تمام گاڑیوں کی سرچنگ کو بھی ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہائی ویز، بارڈر ایریاز جبکہ دیگر صوبوں سے سندھ میں داخل ہونے والے میدانی راستوں کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی، نگرانی، سرچنگ اور پیٹرولنگ جیسے اقدامات کو بھی متعلقہ تھانوں کے لحاظ سے مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے جاری ہدایات میں کہا کہ متعلقہ تمام ایس ایس پیزعرس کی تقریبات کے آغاز سے لیکراختتام تک تمام ایس ایچ اوز کو علاقوں میں موجود رہنے اور لمحہ بہ لمحہ انٹری نوٹ کرانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے جملہ اقدامات کی نگرانی کا بھی پابند بنائیں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ عرس کی تقریبات کی سیکیورٹی پر مامور افسران اور جوانوں کو تمام تر ضروری سہولیات کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔
![]()