کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ ہائیکورٹ میں نجی اسکول میں مختلف پروگراموں کے نام پر فیس وصولی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اسکول چلا رہے ہیں یا کوئی پراپرٹی۔ سندھ ہائیکورٹ نے نجی اسکول میں مختلف پروگراموں کےنام پر فیس وصولی کے خلاف درخواست پر سماعت کی، اس دوران عدالت نے اسکول انتظامیہ کو مختلف پروگراموں کے نام پرفیس وصول کرنے سے رو کتے ہوئے حکم دیا کہ ریگولیٹری اتھارٹی والدین کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے۔ سماعت کے دوران عدالت نے بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوٹو اسٹیٹ، اسپورٹس اور نہ جانے کس کس مد میں فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ جب ایک فیس وصول کرلی جاتی ہے دیگر پروگرامز کے نام پر فیسیں وصول کرنے کی کیا تک ہے؟ کیا کوئی ان اسکول والوں سے پوچھنے والا نہیں؟ عدالت کی جانب سے اسکول انتظامیہ سے مزید استفسار کیا گیا کہ ٹیوشن فیس، اسپورٹس اور فوٹو کاپی کے نام پر الگ الگ فیس کیوں وصول کی جارہی ہے؟ جس پر اسکول انتظامیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسپورٹس کا الگ سے ٹیچر رکھا ہوا ہے، اس لیےفیس وصول کرتے ہیں۔ اس پر عدالت کی جانب سے اسکول انتطامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پھر فزکس میتھ اور دیگرمضامین کے ٹیچرز بھی رکھے گئے ہیں، ان کی بھی الگ سے فیس لینا شروع کر دیں۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے اسکول انتظامیہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا گیا کہ کبھی خود بھی کچھ کریں، یا سب کچھ بچوں سے لیں گے، پانی کا گلاس بھی بیچیں گے کیا؟ والدین آپ کے پاس داخلہ کروا کر پھنس گئے ہیں۔ عدالت نے اسکول انتظامیہ سےاستفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ کےحکم کو چیلنج کر رہے ہیں؟ اس دوران جسٹس محمدعلی مظہر نے منسوب صدیقی سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنے بنائےگئے رولز ہی معلوم نہیں، ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول ایجوکیشن کیا کر رہے ہیں؟ پرائیوٹ اسکول والوں نے تو تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے؟ جس پر ڈائریکٹرجنرل پرائیوٹ اسکولز کی جانب سے کہا گیا کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ تمام چارجز غیرقانونی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ختم کرو، بند کرو ایسے اسکول جوچارجرز غیر قانونی ہیں وہ کیوں لے رہے ہیں؟ سندھ ہائیکورٹ عدالت نے سماعت کے دوران ڈائریکٹرپرائیویٹ اسکولز کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کومدنظر رکھتے ہوئے معاملہ حل کریں۔
![]()