کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو تقسیم نہیں بلکہ متحد نظر آنا چاہئے۔ عافیہ بھی ایک عورت ہے اسے بھی قید ناحق و تنہائی سے آزادی چاہئے۔ وہ جرم بے گناہی کی پاداش میں 86 سال کی ” قید تنہائی “بھگت رہی ہے۔ وہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر کراچی پریس کلب کے باہر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے گفتگو کررہی تھیں جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں نے شرکت کی۔ عافیہ موومنٹ کی رضاکار خواتین نے اس موقع پر” علامتی جیل خانے“میں خود کو بچوں سمیت قیدی بنا کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ 2003 میں عافیہ کو اس کے تین بچوں سمیت اٹھاکر غیرقانونی طور پر افغانستان پہنچا کر خفیہ عقوبت خانوں میں قید رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کی واحد” ماہر امراض مرگی“ ایک عورت ہے اور وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہے۔ الحمدللہ میں نے یہ مقام اپنی محنت کے علاوہ اپنے والدین اور معاشرے کی سپورٹ سے ہی حاصل کیا ہے۔ تمام عورتوں کے حقوق تسلیم کئے جائیں۔ وہ جو آزاد ہیں ان کے بھی اور وہ جو عافیہ کی طرح قید ہیں ان کو بھی حقوق دئیے جائیں۔ آج عالمی یوم خواتین کے احترام میں اگر پاکستانی حکام عافیہ کی رہائی اور وطن منتقلی کیلئے امریکی حکام کو درخواست ارسال کردیتے تو یہ تمام پاکستان کی خواتین کیلئے حوصلہ افزاء اور خوش آئند بات ہوتی۔ اس موقع پر عافیہ سے اس کی ماں اور بچوں کی ٹیلی فون پر بات کرانا کسی تحفہ سے کم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاستی حکام کے نظروں میں ایک پاکستانی شہری کی کتنی قدر ہے اس کا اظہار ریاست کو عملی اقدامات سے کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں قوم عافیہ کی باعزت وطن واپسی کو پہلا قدم سمجھے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر پاکستان میں خواتین 2 حصوں میں تقسیم نظر آتی ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے بلکہ آپس میں ڈائیلاگ ہونا چاہئے تاکہ ہر طبقے کی خواتین کو ترقی کرنے کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
![]()