ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) تحریک انصاف کی حکومت نے 3 ماہ کے دوران 522 ارب روپے کا قرضہ واپس کر دیا، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں قرضوں میں 522 ارب روپے کی کمی ہوئی، تاہم ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 40 ہزار 993 ارب روپے ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے ملک کے کل قرضوں کے حجم کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیڑھ سال میں ملکی قرضوں میں 11 ہزار 114 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 40 ہزار 993 ارب روپے ہوگیا۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے94.1 فیصد ہوچکا ہے۔ ڈیڑھ سال میں اندرونی قرضوں کے بوجھ میں 5 ہزار 260 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ ڈیڑھ برس میں بیرونی قرضوں میں 3 ہزار 198 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک پر دسمبر 2019 تک اندرونی قرضوں کا بوجھ 21 ہزار 676 ارب روپے رہا جبکہ دسمبر 2019 تک بیرونی قرضوں کا بوجھ 10 ہزار 993 ارب روپے رہا۔ مرکزی بینک کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی میں قرضوں کے بوجھ میں کمی دیکھنے میں آئی۔ مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران قرضوں میں 522 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ وفاقی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال میں ملکی قرضوں میں 11 ہزار 114 ارب روپے کے اضافے میں زیادہ تر حصہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہے۔ جبکہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک پر واجب الادا قرضوں کا بوجھ خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے۔ حکومت مالی سال کے دوران جتنا بھی پیسہ اکٹھا کرتی ہے، وہ قرض اور اس کے سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، یوں اب حکومت کو ہر سال تقریباً 4 ہزار ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
![]()