کراچی/ عمر کوٹ (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ سیشن کورٹ پہنچے، حلیم عادل شیخ پر کنری میں صوبائی وزیر تیمور نے ایس ایس پی کی موجودگی میں حملہ کروا کے ان پر ہی جھوٹی اغوا کی ایف آئی آر کٹوائی تھی۔ حلیم عادل شیخ آج اسی سلسلے میں عدالت پیشی پر پہنچے۔ عمرکوٹ کی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا عمرکوٹ میں بڑی ظلم کی داستانیں ہیں جھوٹی ایف آئی آر میں سب سے آگے ہے۔ یہاں عدالت میں آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے سیاسی مخالفوں پر جھوٹے کیس بنائے گئے ہیں۔ عمرکوٹ ضلع منشیات کا گڑھ بنا دیا گیا رشوت وزراء تک پہنچائی جاتی ہے۔ سندھ حکومت کو سندھ آئی جی کے تبادلے کے علاوہ کوئی مسئلہ نظر نہیں آرہا ہے۔ صوبائی وزیر تیمور نے کنری میں مجھ پر حملہ کروایا۔ آج پھر خواتین کو حملے کے مقصد کے لئے بھیج کر گھٹیا حرکت کی گئی ہے۔ آج پھر گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی گئی۔ کہتا ہوں دو چار مزید ایف آئی آر میرے خلاف کاٹ لیں تاکہ عمرکوٹ آتا جاتا رہوں اور لوگوں کے کرتوت دنیا کو دکھا سکوں جلد عمرکوٹ میں کھلی کچہری لگاؤں کا عوام کے مسائل سنیں گے۔ عمرکوٹ میں پی ٹی آئی جی ڈی اے کے لوگوں کے ساتھ انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ کے چور بھی پیپلز پارٹی کے لوگ نکلتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے تو غریبوں کے بچوں کی اسکالرشپ کے پیسے بھی کھا گئے۔ سابقہ وزیر جام مہتاب ڈہر بھی 8 پولیس موبائل کے پروٹول میں چلتا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی پولیس کو اسی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ایسا سسٹم چلنے نہیں دیں گے۔ نئے پاکستان میں نیا عمرکوٹ بھی بنائیں گے۔
![]()