کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طاہر ملک نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی ساتویں کلاس کی معاشرتی علوم کی کتاب میں مہاجروں کو پناہ گیر لکھنے اور قائد اعظم، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، علامہ اقبال کے مضامین کتاب سے نکالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت تعصب کو فروغ دے رہی ہے اس مقصد کے لیئے درسی کتب کا سہارہ لیا گیا اور اس میں جان بوجھ کر ایسی مذموم ترامیم کی ہیں تاکہ عوام کی توجہ کرپشن سے ہٹ کر تعصب پر لگ جائے اور لوگ دنیا کی کرپٹ ترین حکومت کی کرپشن کو بھول کر آپس میں دست و گریبان ہو جائیں جو انتہائی مکروہ اور شدید قابل مذمت حرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بانیان پاکستان کے بارے میں ایسی کسی بھی حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نفرت انگیز اور تعصب پھیلانے والے مواد کو فوری طور پر کورس سے خارج کیا جائے اور جو لوگ بھی اس طرح کی مکروہ حرکات میں ملوث ہیں انہیں فوری طور پر برطرف کر کے ان پر مقدمات چلائیں جائیں اور انہیں درس عبرت بنا دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی مکروہ حرکت کی ہمت ہی نہ ہو۔ انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ درسی کتب میں بانیان پاکستان قائد اعظم، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح اور علامہ اقبال سے متعلق مضامین کو فوری طور پر شامل کیا جائے تاکہ بچوں کو پاکستان کے بنانے کے سلسلے میں ان رہنماؤں کی جدوجہد کے بارے میں پتہ چل سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے نفرت انگیز و شر انگیز مواد کو فوری طور پر درسی کتب سے نکالا جائے ورنہ تحریک انصاف کراچی سے خیبر تک ایسا احتجاج کرے گی کہ سندھ حکومت کا بوریا بسترا گول ہو جائے گا۔
![]()