کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ وکلا ٹیم کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے کنری تھانہ پر اغوا کے جھوٹی ایف آئی آر میں حلیم عاد ل شیخ نے ضمانت کرالی عدالت نے ایک لاکھ روپے کے عیوض حلیم عادل شیخ کی ضمانت منظور کرلی۔ ان کے ہمراہ رکن سندھ اسمبلی راجا اظہر، ایڈووکیٹ شاہد سومرو، علی ناصر دیگر رہنما بھی موجود تھی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا آج میں عدالت میں انصاف لینے آیا ہوں، کچھ ماہ قبل تیز گام سانحہ کے شہداء کی جنازہ نمازہ ادا کرنے کنری گیا تھا جہاں صوبائی وزیر نواب تیمور ٹالپر، ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔ میرے ساتھی کی گاڑی توڑی گئی مجھ پر حملہ کیا گیا حملہ بھی مجھ پر ہوا گاڑی بھی ہماری ٹوٹی اور ایف آئی آر بھی ہم پر کاٹی گئی۔ یہ ہے سندھ کا انصاف جہاں ان کے دو نمبر ایس ایس پی لگے ہوتے ہیں وہاں ایسا ہوتا ہے۔ مجھ پر ایف آئی آر کٹوائی گئی میں انصاف کے لئے اپنی ایف آئی آر درج کرانے گیا نہیں کاٹی گئی پھر ہمیں سیشن کورٹ سے انصاف ملا جہاں میرے پرائیوٹ سیکریٹری لال محمد کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا۔ جس میں صوبائی وزیر نواب تیمور ٹالپر، ایس ایس پی عمرکورٹ اعجاز شیخ، ٹاؤن چیئرمین شکیل باجوہ دیگر ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ لیکن ہمارے کیس پر ایس ایس پی خود ہی منصف بن کر خود کو بے قصور قرار دے رہے ہیں۔ مجھ پر جھوٹا کیس بنایا گیا کہ ایک ٹھیلے والے کو حلیم عادل شیخ نے اغوا کروایا تھا۔ یہ پیپلز پارٹٰی والوں کی تاریخ ہے جو لوگ ان کے کرتوت دنیا کو دکھاتے ہیں ان کو ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس طرح ایس ایس پی قیوم پتافی نے ملزم کو پکڑا اس کو ہٹا دیا گیا اصفر مہیسر، ڈاکٹر رضوان کو بھی سچ کی سزا دی گئی۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے ان کی غلامی قبول نہیں کی اس کو ہٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔ آج وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے تین نام دیے ہیں عدالت میں غلط بیان بازی کی گئی ہے جہاں کہا گیا ہے مشاورت کی جاری ہے۔ پنجاب اور کے پی کے آئی جی تبدیل ہوتے تو خطوط لکھے گئے وہاں آپکی طرح میڈیا میں آکر آئی جی پر چارج شیٹ نہیں پیش کی آئی جی کی تبدیلی پر افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ وفاق سے مشاورت ہوچکی ہے۔ 16 جنوری کو ایک سندھ حکومت نے خط لکھا آئی جی کی تبدیلی کے لئے وفاق نے 17 جنوری کو جواب دیا کہ وجوہات پر غور کیا جارہا ہے لیکن فی الحال نہیں ہٹایا جارہا چیف سیکریٹری کے بجائے اب سیکریٹری سروس وزیر اعلیٰ سندھ کے نام پر وفاق کو خط لکھ رہے ہیں شاید چیف سیکریٹری نے غلط کام کرنا بند ہوگیا، وفاق کو تین نام بھیجے گئے جب الزامات پر مطمئن ہوجائے گا، تب تک نیا آئی جی ہم تبدیل نہیں کر سکتے ہیں، گزشتہ روز ہائی کورٹ سندھ میں سند سوسائٹی کی جانب سے پٹیشن بھی دائر ہوئی تھی عدالت میں بھی دو نمبری کی گئی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے لیٹر لکھا ہوا ہے ہم وفاق سے مشاورت اور جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم رولز کے تحت آئی جی کا تبادلہ کرائیں گے، سندھ حکومت نے ائی جی کو پریشر دیا کہ آپکے افسران نے ہمارے دو وزراء پر رپورٹ دی ہے آج دوبارہ پریشرائز کرنے کے لئے خط لکھے جارہے ہیں کہ آئی جی سندھ کو تبدیل کیا جائے لیکن وفاق نے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا ہے جو نام دیگئے گئے ہیں ہمارے لئے معزز ہیں لیکن ہم اس طرح کی غلام فورس نہیں چاہتے۔ وفاق میں بلاول ہاؤس کی طرح ڈیل کر کے فیصلے نہیں کئے جاتے ہیں یہاں کوئی ڈیل سے نام نہیں آتے قانون کے مطابق نام آتے ہیں یہ وفاق نے فیصلہ کرنا ہے آئی جی صاحب کو جانا ہے یا نہیں ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں آئی جی سندھ ان کا کمدار بن جائے۔
![]()