کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ماہی گیروں کا اظہار یکجہتی ء کشمیر کے سلسلے میں عظیم الشان جلسہ ء عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا ہے کہ پچھلے 72 سال سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ کیا لا الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اس سے مضبوط کوئی رشتہ ہو نہیں سکتا۔ پاکستان کے ماہی گیر دنیا کو بھارت کا وہ مکروہ چہرہ دکھانا چاہتے ہیں، جس میں بھارتی فوج کے ہاتھ لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، قابض بھارتی فوج نہتے کشمیری نوجوانوں کو بربریت کا نشانہ بناتی چلی آرہی ہے۔ کشمیری عوام چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہی ہے کہ ان کے اوپر بھارتی فوج ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے مگر انسانی حقوق کے علمبردار مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جوکہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ چیئرمین فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں اگر کوئی جانور یا آدمی مر جائے اور مارنے والا خدانخواستہ مسلمان ہو تو کہتے ہیں کہ بہت بڑا ظلم ہوگیا، برما، کشمیر، فلسطین، سمیت جہاں جہاں قتل و غارت گری ہو رہی ہے وہ سب مسلمان ممالک ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ چیئرمین فشر مینز کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبرنے کہا کہ ہندو ازم کے نفاذ کی کوششوں میں مصروف مودی سرکارکو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس کی 10 لاکھ فوج کو نکیل ڈالنے کے لیے ہمارے 20 لاکھ ماہی گیروں سمیت 25 کروڑ پاکستانی عوام ہی کافی ہے پاک فوج تو اس کے علاوہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہم مرے تو شہید اور اگر تم مرے تو کتے کی موت۔ چیئر مین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے عالمی دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جس طریقے سے 5 اگست 2019 کو نیا قانون بنا کر کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کی سازش کی گئی۔ یہ بھارتی اقدام سیاہ ترین دن کے طور پرمنایا جاتا رہے گا۔ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں۔ کوئی ایک لفظ نہیں بولا اس معاملے پر اور کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا۔ کھانے پینے اور جان بچانے والی ادویات کی ترسیل روک دی گئی۔ کشمیری نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کر کے جیلیں بھر دی گئیں۔ مگر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کا درس دینے والی عالمی طاقت خواب خرگوش سے بیدار نہ ہوئی۔ چیئر مین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے کہا کہ بھارتی قابض فوج پیلٹ گنز سے فائرنگ کر کے کشمیری نوجوانوں کو بینائی سے محروم کر رہی ہے۔ مودی سرکار کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔ ظالم کو ہمیشہ اللہ تعالی نے نشان عبرت بنایا ہے۔ اور مودی تم بھی انشااللہ کتے کی موت مرو گے۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے مزید کہا کہ مسلمان مردوں کو دفناتے ہیں اور ہندو مردوں کو جلاتے ہیں مگر تم کو نہ جلایا جائے گا اور نہ ہی دفنایا جائے گا۔ تمہاری بوٹیاں کتے نوچیں گے۔ انہوں نے غیرت مند ماہی گیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کا جذبہ دیکھ کرمیرا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ اور مجھے یہ یقین ہو گیا کہ جس دن ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اس دن دہشت گرد نریندر مودی اور ہندوستان صفحہء ہستی سے مٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جنگی جہازوں پر بیٹھ کر آئے اور جوتے کھا کر واپس گئے۔ہمارا دل اتنا بڑا ہے کہ ہم نے ان در اندازوں کو بھی زندہ واپس کر دیا۔ چیئرمین فشرمینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبرنے کہا کہ ہندو ازم کے نشے میں دھت مودی حکومت 25 کروڑ بھارتی مسلمانوں اور سکھوں پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی ہی اس کی تباہی کا باعث بنے گی۔ 1999سے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کو تاحال رہا نہیں کیا گیا بلکہ ان ماہی گیروں کا کیس بھارت کی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ جوکہ عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ہم اپنے بھارتی قید میں موجود ماہی گیروں کی رہائی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھایئں گے۔ آخر میں چیئرمین عبدالبر نے اظہار یک جہتی ء کشمیر جلسہ میں شریک ماہی گیروں کا شکریہ ادا کیا۔ وائس چیئرمین ابوذر ماڑی والا نے اظہار یکجہتی جلسہ سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نریندر نہیں ہے بلکہ وہ ناسور ہے اس کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مودی کہتا ہے کہ پاکستانی تقسیم ہیں۔ پاکستانی ہر گز تقسیم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی لاکھوں پاکستانی ماہی گیر ہی تمہاری بنیادوں کو ہلا دیں گے۔ سن لے مودی ہمارے درمیان کوئی لسانیت نہیں ہے، کشمیری، سندھی، بلوچی، پختون اور پنجابی ایک ہیں۔ تمہارے خلاف پاکستان کا ہر طبقہ متحد ہے۔ نیشنل کاز پر ہم ماہی گیر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے۔ وائس چیئرمین ابوذر ماڑی والا نے کہا کہ حکومت وقت تو جنگ لڑتی ہے لیکن مسلمانوں کو پذیرائی کیوں نہیں مل رہی۔ اس لیے نہیں ہے کہ آپ کیوں کفار کو اپنا دوست سمجھتے ہو۔ کفار کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ کشمیری رہنما چوہدری ظفر نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک بہت پرانی ہے، دوقومی نظرکی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، کراچی کو ماہیگیروں نے آباد کیا ہے، آج بھی ان خاندانوں کی دو سو سال پرانی تاریخ ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم سے جو کشمیری شہید ہوتا ہے اس کو پاکستانی پرچم میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔ اقبال کشمیری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے آج تک ڈٹے ہوئے ہیں۔کشمیری عوام بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ اس آزادی کے لیے ماؤں بہنوں نے اپنی عزت کی قربانی دی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کیماڑی کے رہنماء آصف خان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے اور کشمیر کو بھارت میں شامل کر کے اہل کشمیر پر آخری ظلم کیا ہے۔ جس کا خمیازہ بھارت کو بھگتنا ہوگا۔ جلسے سے ڈائریکٹر آصف بھٹی، حاجی عبدالروف ابراہیم نے خطاب کیا جب کہ ڈائریکٹر وڈیرہ حبیب اللہ، حنیف لاڑا، عمر ہاشمی، سید وقاص احمد، شہزاد جاموٹ، ماہی گیر رہنماء فیصل یونس، بچو دیوان، حاجی نواز بروہی، جنرل مینجر شوکت حسین، عابد عارفین، میجر اسد سعد، نصیر احمد و دیگر افسران بھی اسٹیج پر موجود تھے۔
![]()