Home / Home / ڈیرہ اسماعیل خان میں زہریلے کیمیکل سے آلودہ دودھ اور انتہائی مضر صحت گوشت کے کاروبار پر شدید تشویش کا اظہار

ڈیرہ اسماعیل خان میں زہریلے کیمیکل سے آلودہ دودھ اور انتہائی مضر صحت گوشت کے کاروبار پر شدید تشویش کا اظہار

ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈسٹرکٹ بار ڈیرہ کے ممتاز قانون دان پیر صدام حسین زکوڑی ایڈووکیٹ نے شہر بھر میں زہریلے کیمیکل سے آلودہ دودھ اور انتہائی مضر صحت گوشت کے بے دھڑک اور بڑھتے ہوئے کاروبار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو زہر کھلانے اور ان کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زہریلے کیمیکل اور چکنائی سے سفید کیا گیا پانی پورے شہر میں دودھ کے نام پر دھڑلے سے فروخت ہو رہا ہے جو مقامی طور پر بھی تیار ہوتا ہے اور شہر سے باہر کے علاقوں سے بھی ٹینکروں میں بھر کر لایا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں سے مردار جانوروں سمیت لاغر، کم عمر اور انتہائی مضر گوشت بھی کسی خوف اور ڈر کے بغیر بیچا جا رہا ہے۔ عوام کی رگوں میں اترنے والا یہ زہر زندگی کیلئے خطرہ تو ہے ہی مگر اس سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ کے سابقے یا لاحقے کے نام کے ساتھ جگہ جگہ کھلنے والے ہوٹلوں میں یہ دودھ اور گوشت زیادہ سپلائی ہوتا ہے جبکہ گلی محلوں میں قائم ملک شاپس اور میٹ شاپس پر بھی یہ موت بغیر کسی خوف اور ڈر کے بانٹی جا رہی ہے۔ صدام حسین زکوڑی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس دودھ کو ٹیسٹ کرنے کا کوئی نظام نہیں اور نہ ہی وہ اس جانب توجہ دے رہی ہے۔ قصابوں کی دکانوں پر صحت کیلئے انتہائی مضر گوشت فروخت ہو رہا ہے اور قصائیوں نے جگہ جگہ اپنے مذبحہ خانے کھول رکھے ہیں جہاں قریب المرگ اور انتہائی لاغر جانوروں کو ذبح کرکے انہیں عوام کے آگے بیچا جاتا ہے۔ اسی طرح شہر سے باہر کے علاقوں سے موذی امراض کے باعث مر جانے والے مردار جانوروں کا گوشت بھی شہر بھر میں سپلائی ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت کے حکام سمیت دیگر اعلی متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کاروبار میں ملوث مکروہ اور گھناﺅنے کردار کے گرد قانون کا گھیرا تنگ کریں اور محض وقتی و کاغذی کاروائی کی بجائے ایک ایسا سسٹم بنائیں کہ عوام کے ساتھ دھوکہ، فراڈ اور دو نمبری کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ نیز ڈیرہ اسماعیل خان میں روزانہ لاکھوں روپے کمانے والے ہوٹلوں کو بھی چیک کیا جائے جو انتہائی سفاکی کے ساتھ نہ صرف دو نمبر دودھ اور گوشت عوام کو کھلا رہے ہیں بلکہ ان کی آڑ میں منشیات جیسا مکروہ دھندھا بھی فروغ پا رہا ہے جو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی بلڈنگوں میں ہوٹل کھول کر معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایبٹ آباد میں آئی ٹی ایف–پی ٹی ایف وہیل چیئر ٹینس کوچنگ کیمپ کا آغاز

ایبٹ آباد، (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) اور انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے