کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) معاشرے میں جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش ناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، پولیس، عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو باہمی طور پر کوشش کرنی ہوگی، قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے لیگل ایڈ سوسائٹی کے تحت "جنسی ہراسگی کے کیسز پر ردعمل” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیگل ایڈ سوسائٹی کے چیئرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد نے وار اگینسٹ ریپ نامی تنظیم کے تحت 2011 میں شائع ہونے والی رپورٹ "جنسی ہراسگی اور پاکستانی قانون” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد پاکستان میں عام بات ہے۔ انہوں نے ساحل نامی این جی او کی شائع کردہ رپورٹ "کریول نمبرز” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں پاکستانی اخبارات میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے تین ہزار 832 واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں سے 27 فیصد کا تعلق سندھ سے تھا۔ ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ جنسی تشدد اور ریپ سماجی و قانونی مسئلہ ہے لہذا نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر سے اس کا کثیر العلمی تجزیہ کیا جانا لازم ہے۔ انہوں نے سندھ میں حالیہ قانونی سازی خصوصاً ضابطہ فوجداری (ترمیم) (ریپ سے متعلق جرائم) ایکٹ 2016 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر (سندھ ترمیم) ایکٹ 2017 کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2017 سندھ ایکٹ کی رو سے ریپ کے واقعیات میں ڈی این اے ٹیسٹ کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ 2016 ترمیمی ایکٹ نے قانون کے اطلاق کے تفصیلی طریقہ کار اور عمل کو بیان کرکے قانون کو وسعت دی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر عثمان چاچڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے باعث صنفی تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ معاشرے میں جنسی تشدد کی روک تھام کے عزم پر قائم ہے اور صوبائی کابینہ نے رول آف لاء کا روڈ میپ بھی منظور کرلیا ہے جس میں خواتین سے متعلق معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ داخلہ کے تحت پولیس، جیل خانہ جات، استغاثہ اور عدالتی افسران کو تربیت دینے کے لیے کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ عثمان چاچڑ نے بتایا کہ حال ہی میں منظور کردہ سندھ پولیس ایکٹ 2019 میں تفتیشی افسران کی علیحدہ نفری تشکیل دیے جانے کے علاوہ خواتین پولیس افسران کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محکمہ داخلہ کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعیات سنبھالنے کے لیے صوبے بھر میں انسانی حقوق سیل قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی چیئرمین شپ میں پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینٹ کمیشن قائم کیا جاچکا ہے جس کے پہلے اجلاس میں صنفی تشدد کے موضوع پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی گئی۔ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سیکرٹری عالیہ شاہد نے کہا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور لیگل ایڈ سوسائٹی نے متاثرہ افراد کو ہمہ جہت ریلیف دینے اور جنسی تشدد بشمول ریپ سے متاثرہ افراد کے بحالی نو کے لیے جنسی تشدد پر ردعمل کا فریم ورک تیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو ایک ہی جگہ قانونی، میڈیکو لیگل اور نفسیاتی سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو سہولت بھی شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی سطح پر ایسے مراکز کے قیام کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کو سمری ارسال کی جاچکی ہے۔ فاؤنڈیشن اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر صبا گل خٹک نے کہا کہ ریپ کی کوشش بھی تشدد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو جنسی تشدد کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم معاشرے کے زد پذیر طبقات کو ہر طرح سے سپورٹ مہیا کررہی ہے۔ ملیحہ ضیا لاری نے سندھ میں جنسی تشدد کے واقعات پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ 2018 میں ریپ کے 266 کیسز رپورٹ ہوئے اور عدالتوں نے صرف چار کیسز میں سزا سنائی، 47 ملزمان کو رہا کردیا گیا جبکہ 154 کیسز اب بھی زیر التوا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ غیر فطری تعلق کے 223 کیسز درج ہوئے جن میں سے صرف سات کیسز میں سزا سنائی گئی۔ محقق نازش بروہی نے بتایا کہ زیادہ تر ریپ کے کیسز رپورٹ نہیں کیے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر فیض اللہ کوریجو نے ایسی کیس اسٹڈیز پیش کیں جن میں ریپ کیسز کو مقدمے کے مختلف مراحل پر التوا کا شکار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا رویہ بھی اہمیت رکھتا ہے اور اگر متاثرہ فریق سے مناسب طریقے سے بات نہ کی جائے اور اس کی سنی نہ جائے تو یہ بھی کیس کے التوا کی وجہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایل او کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے حال ہی میں ڈی این اے ٹیسٹ کو تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ غیر سرکاری تنظٰم وار سے تعلق رکھنے والے شیراز احمد اور عاسیہ منیر نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں خصوصاً خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کو اخلاقی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے لہذا وکیل اور متاثرہ فرد کے درمیان اعتماد پر مبنی تعلق ہونا چاہیے۔ محکمہ صحت کی چیف ٹیکنکل ایڈوائزر ڈاکٹر شبنم نے کہا کہ رول آف لاء روڈ میپ پر عمل درآمد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سیمینار سے خواتین کی حقوق کے سلسلے میں سرگرم سماجی کارکن اور زیبسٹ میں تدریس سے وابستہ سارہ زمان، جمیل جونیجو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
![]()