کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبہ سندھ کے موجودہ بلدیاتی نظام کا کسی وقت بھی دھڑن تختہ کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی ترامیم کے حوالے سے سندھ حکومت کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔ نئے بلدیاتی نظام کے ڈرافٹ میں کراچی کی ڈسٹرکٹ کونسل کے خاتمے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ کراچی کے اضلاع کی تعداد بھی 6 سے بڑھا کر 8 کئے جانے کا امکان ہے۔ کیماڑی اور سرجانی کے نام سے دو نئے ڈسٹرکٹ وجود میں لائے جاسکتے ہیں۔ ہر ڈسٹرکٹ میں ٹاؤنز کی تعداد 5 سے 6 رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سرجانی ڈسٹرکٹ میں ڈسٹرکٹ کونسل اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے شامل ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ویسٹ اور سینڑل کو توڑا جائے گا۔ نئے بلدیاتی نظام میں ڈپٹی کمشنرز کو مزید با اختیار بنایا جائے گا۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں پیپلز پارٹی تنہا فیصلے کررہی ہے۔ نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صوبائی محکمہ قانون میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ سندھ حکومت موجودہ بلدیاتی نظام کو ختم کرنے پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت موجودہ بلدیاتی نظام کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اندرون سندھ میں موجود پیپلز پارٹی کے بلدیاتی نمائندے مدت پوری کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت کے فیصلے کو ترجیح دی جائے گی یا پھر پارٹی کے بلدیاتی نمائندوں کی مراد بر آئے گی۔
![]()