کراچی (نوپ نیوز) گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیرسیکنڈری اسکول عزیزآباد کی سابقہ جونئیر پرنسپل نےخود ہی اسکول میں چوری کرواکر الزامات ایماندار اساتذہ اور اسٹاف پر لگا دیئے عزیز آباد تھانے میں پہنچ کر رونا دھونا ڈال دیا۔ نشاط امین کو کرپشن، اسٹاف سے غیر اخلاقی رویئے، این جی اوز چلانے کی مد میں لاکھوں روپے کی ہیر پھیر پر محکمہ تعلیم نے برطرف کیا تھا۔ کمپری ینسیواسکول میں 9 نومبرکو رات گئے چوری کی واردات ہوئی تھی نشاط امین کی کرپشن کے ثبوت، ماسٹررول میں سی ایل کو بلیک مارکر سے چھپائے گئے ثبوت سمیت طلباء کی اہم دستاویزات، لیب کا سامان، 72 ہزار روپےسے زائد کیش سمیت دیگرسرکاری کاغذات چوری کرلیے گئے تھے۔ حیرت انگیز طور پر صرف وہی سامان چوری کیا گیا جس میں سابقہ پرنسپل نشاط امین کے کالے کرتوتوں کے ثبوت موجود تھے اسکول کےمختلف شعبہ جات کی کھڑکیاں، تالے، اور دیگر چیزیں ٹوٹی ہوئی ملیں ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈی ای او وسطی نےمعاملے پر چپ سادھ لی، جبکہ عزیز آباد پولیس نے بھی کوئی اندراج یا مقدمہ درج نہیں کیا۔ پولیس افسران و اہلکاروں نے اسکول کا دورہ بھی کیا کرپشن، اقربا پروری، اسکول اسٹاف کے ساتھ زیادتیاں، بد تمیزی سمیت این جی او چلانے کے باعث معطل کی گئی سابقہ پرنسپل نشاط امین نے محکمہ تعلیم کو جوتی کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ سیکریٹری تعلیم کے احکامات اور سرکاری نوٹیفیکیشن کےذریعے نشاط امین کو معطل کرکے فرزانہ اکرم کوکمپری ہینسیو اسکول کی پرنسپل کاچارج دیا گیا تھا لیکن نشاط امین نے پرنسپل آفس، لائبریری، کیمسٹری لیب سمیت مختلف شعبوں کو تالے لگاکرسیل کردیا اور تاحال فرزانہ اکرم کو چارج نہیں دیا، ڈائریکٹر ایجوکیشن حامد کریم ڈی او مرزا ارشد بیگ، نے بھی فرزانہ اکرم کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے، یہ افسران بھی نہ تو فرزانہ اکرم کو چارج دلواسکے اور نہ ہی نشاط امین کی جانب سے لگائی گئی سیل کھلواسکے اسکول میں رات گئے چوری کی واردات ہوئی۔ صبح 8 بجےجب اسٹاف پہنچا تو لائبریری، کیمسٹری لیب سمیت دیگر کی کھڑکیاں اور تالے ٹوٹے ہوئے پائے گئے جس میں سے اسکول حاضری رجسٹر، ماسٹررول، طلباء کی اہم دستاویزات، امتحانی فارمز اور وہ دستاویزات اور ماسٹررول جس میں نشاط امین نے اپنی غیر حاضری چھپانےکے لیے سی ایل کو بلیک مارکر سے سائن کیے یہ بھی غائب اور دیگر سرکاری دستاویزات غائب پائی گئیں۔ پرنسپل فرزانہ اکرم سمیت دیگر اسٹاف نے یہ تمام صورتحال دیکھ کرڈی ای او، ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران سے رابطے کی کوشش کی لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔
![]()