ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) آزادی مارچ کے لئے تعینات پولیس اور ایف سی دستوں کی واپسی شروع۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے آزادی مارچ میں ڈیوٹی کے لئے جانے والے خیبر پختونخوا پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دستوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔صوبائی حکومت کے آزدی مارچ میں سرکاری حفاظتی اقدامات پر اب تک چوبیس کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کو اسلام آباد میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد میں سوات پولیس کے ایک اہلکار نے مبینہ طور پر خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی جو ہسپتال میں تاحال زیر علاج ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکار کی واپسی گزشتہ روز سے شروع ہوگئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت صوبے کے مختلف دیگر اضلاع کو خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔ دور دراز سے تعلق رکھنے والے اہلکار بھی اپنے آبائی علاقوں کو پہنچ رہے ہیں۔
![]()