ایبٹ آباد (رپورٹ عتیق سلیمانی) سی پیک منصوبے کے تحت ہزارہ ایکسپریس وے کے 60 کلومیٹر منصوبے کا افتتاح آئندہ چند ہفتوں میں ہوگا اور اسی منصوبے کا دوسرا حصہ جنوری 2020 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ مذکورہ منصوبے میں دنیا کی جدید ترین چھ الگ الگ ٹنل بھی شامل ہیں۔ 120 کلو میٹر ہزارہ ایکسپریس وے کا منصوبہ ناصرف ہزارہ بلکہ پورے ملک کی معیشت میں تبدیلی لے کر آئے گا اس منصوبہ کے حوالہ سے بدھ کے روز کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام، جنرل منیجر سی پیک تنویر اسحاق، جی ایم این ایچ اے مطیع اللہ نے ایبٹ آباد پریس کلب کو منصوبے کے دورے کے دوران سی پیک کیمپ آفس حویلیاں میں بریفنگ دی اس موقع پر منصوبہ کے انچارج چائنہ حکومت کے نمائندہ مسٹر وانگ بھی موجود تھے۔ کمشنر ہزارہ ڈویژن سید ظہیر السلام کا کہنا تھا ہزارہ ایکسپریس وے E-35 کا منصوبہ 131 بلین رو پے کی لاگت سے پاکستان کے لئے تیار ہونا بڑی خوشخبری ہے یہ شاندار منصوبہ آنے والی نسلوں کے لئے گیم چینجر ہے اس خطہ کے عوام کو بڑا ریلیف ملے گا اس منصوبہ کو تین مراحل میں رکھا گیا جس میں حویلیاں تا مانسہرہ تک 40 کلو میٹر پر 99 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جس کا چند ہفتوں میں ملک کی اہم شخصیت افتتاح کریگی۔ اس میں حویلیاں انٹر چینج سجیکوٹ انٹر چینج اور مانسہرہ شیخ آباد انٹر چینج بنائے گئے جبکہ ایبٹ آباد انٹر چینج کے لئے تجویز زیر غور ہے جس کی 2۔ 1 کلو میٹر کی پرپوزل تیار کی جاچکی ہے جس کی اراضی صوبائی اور تعمیر کے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کریگی اس حوالے سے چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی سکندر قیوم سے میٹنگ بھی ہوئی اور سروے بھی کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے متعلق معاشی ترقی کے ہائیڈرو منصوبہ سکی کناری ڈیم کی تعمیر کے لئے اراضی ایکوائر ہوچکی ہے جہاں 5 ہزار مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے جبکہ ہزارہ ایکسپریس وے پر 3007 مقامی اور 15 سو چائینز لیبر کام کررہی ہے اس سے مقامی سطح پر روزگار ملنے سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے۔ حویلیاں ڈرائی پورٹ پر وئیر ہاوسز اور انڈسٹریل زون بنیں گے اور مانسہرہ میں ٹیکنکل کالج کے لئے بھی زمیں حاصل کی جاچکی ہے اس منصوبہ سے مستقبل میں یہاں بڑے کارخانے بھی بنائے جائیں گے اور حطار انڈسٹری زون کا بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ہوگا داسو اور بھاشا ڈیم کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک کی معیشت کے لئے یہ خطہ ریڑھ کی ہڈی سی حثیت رکھتا ہے اس حوالے سے صوبائی اور مرکزی حکومت بھی علاقہ کی ترقی اور بہتری کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہونگے ایجوکیشنل سٹی اور سکالر شپ جیسے مواقع بھی پیدا ہونگے انہوں نے سی پیک ہزارہ ایکسپریس منصوبے میں تمام درپیش مسائل کے حل میں کھلی کچہریوں کا ذکر کیا جس کے نتیجہ میں منصوبے تیز رفتاری سے تکمیل کے مراحل میں ہیں، انہوں نے شاہراہ قراقرم مسلم آباد سے پبلک سکول تک کی کشادگی کے حوالہ سے بریفنگ بھی دی جو 9.9 بلین سے مکمل ہوگا جس میں اوور ہیڈ برجز، اور چار بڑے موڑ اور نکاسی آب اور یوٹیلٹی تنصیبات کی منتقلی شامل ہے اس موقع پر جی ایم سی پیک تنویر اسحاق نے ہزارہ ایکسپریس وے پر بریفنگ بھی دی جس میں بتایا گیا منصوبہ کو 40 چالیس کلو میٹر میں تقسیم کر کے تین مر حلہ رکھے گئے جس میں 47 پل ہیں اور 6 ٹنل شامل ہیں اور سروسز ایریا کی اراضی پر بھی کام تیزی سے جاری ہے ایبٹ آباد شملہ ٹنل 17.35 اور دوسری 390 میٹر جبکہ مانسہرہ لساں نواب ٹنل ڈھائی کلو میٹر بنائی گئی ہے جس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ حویلیاں سے تھاکوٹ تک مکمل ہونے پر فیز تھری میں کس پل کوزا بانڈی سے آگے 14 کلو میٹر شاہراہ قراقرم کو بہتر بنایا جائے گااور اس منصوبے سے متاثر تمام سڑکوں کی تعمیر ہوگی اور کسی آبادی کا کوئی راستہ بند نہیں کیا گیا متبادل اوور ہیڈ برجزز دیئے گئے جبکہ دوسرے فیز میں 15 کلومیٹر دشوار تھا جس کو این ایچ اے اور چائینز کمپنی نے انتہائی محنت سے مکمل کیا اور کسی بھی مقام پر پہاڑوں پر بھرائی کے بجائے پل بنائے تاکہ معیار پر سمجھوتہ نہ ہوسکے۔
![]()