پشاور (رپورٹ: اصغر خان) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے محکمہ صحت اور دیگر عالمی شراکت داروں سمیت معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم ملکر اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کو ختم کرنا ایک چیلنج ہے جس کو پوری جانفشانی سے ختم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے پولیو کے عالمی دن کے حوالے سے جمعرات کے روز منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے زیرِ اہتمام دْنیا بَھر میں ہر سال 24 اکتوبر کو ”پولیو کا عالمی یوم“ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ہر خطّے سے اس موذی مرض کا قلع قمع کرنا ہے، اور ”پولیو کے عالمی یوم“ کے موقعے پر ہم عہد کرتے ہیں کہ پولیو کو خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک سے ختم کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی دنیا گزشتہ صدی میں اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کر چکی ہے۔ ڈاکٹر ہشام نے کہا کہ آگاہی مہم کیساتھ پولیو وائرس پھیلنے اور اس کا موجب بننے والے عوامل کا بھی تدارک کرنا ہوگا پولیو ورکرز کی سیکورٹی کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر پولیو ویکسینیشن کی مہم کو سر انجام دیں۔ وزیر صحت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام بچّوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانا ہوگا تاکہ وہ مْلک و قوم کی ترقّی و خوش حالی میں اپنا بَھرپور کردار ادا کرسکیں۔ اس کے لیے اْن والدین کو قائل کرنا ہوگا، جو پولیو ویکسین پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ بچّوں کی پولیو سے معذوری کے ذمّے دار براہِ راست والدین بھی ہیں، لہٰذا انہیں پولیو ورکرز سے تعاون کرنا ہوگا اور بالخصوص ان دشوار گزار علاقوں تک جہاں پولیو ورکرز کی رسائی نہیں، وہاں کے مکینوں کو خود آگے بڑھنا ہوگا اورقریبی اسپتالوں، دیہی مراکزِ صحت اور پولیو مراکز جا کر اپنے بچّوں کو قطرے پلوانا ہوں گے۔ صوبائی وزیر صحت نے والدین سے اپیل کی کہ بچّوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے ذمّے داری کا مظاہرہ کریں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ پوری قوم کو حکومت، عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور مْلک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا بیڑہ اْٹھانا ہوگا کیونکہ کوئی بھی مْلک کسی بھی وبا یا آفت سے اسی صْورت عہدہ برآ ہوتا ہے، جب اس کی حکومت کے ساتھ پوری قوم بھی یک جا ہوتی ہے۔
![]()