ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) قتل کے مقدمہ میں16 سالہ نوجوان کی بے گناہی ثابت ہوگئی، عدالت عالیہ نے نوجوان احسان علی عرف سنی کی اپیل منظور کر کے اس کی پچیس سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے مقدمہ سے باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ جسٹس جناب سید عتیق شاہ اور جسٹس جناب صاحبزادہ سعد اللہ پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے دو رکنی بینچ نے تھانہ کینٹ کی حدود اسلامیہ کالونی میں کامران ظفر نامی شخص کو قتل کرنے کے مقدمہ میں بے گناہ پھنسائے جانے والے نوجوان احسان علی عرف سنی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی بے گناہی ثابت ہونے پر اسکی پچیس سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے مقدمہ سے بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔اپیلینٹ احسان اللہ عرف سنی کی جانب سے معروف قانون دان فاروق اختر ایڈوکیٹ اور تحسین علمدار ایڈوکیٹ نے اپیل کی پیروی کرتے ہوئے عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے اور موقف اختیار کیا تھانہ کینٹ کی حدود اسلامیہ کالونی ڈیرہ میں سال 2015 کے دوران ظفراقبال نامی نوجوان کو اس کے گھر کے قریب گلی میں فائرنگ سے قتل کیا گیا جبکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کے مقدمہ میں اٹھارہ سالہ نوجوان احسان اللہ عرف سنی کو مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے۔ دوران سماعت مقدمہ کے اہم چشم دید گواہ اور موقع کی واقعاتی شہادتوں میں شدید تضاد پایا گیا عدالت نے وکلاء کی طویل بحث اور ان کے دلائل سننے کے بعد نوجوان احسان اللہ عرف سنی کی بے گناہی ثابت ہونے پر ماتحت عدالت کے سزا پچیس سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
![]()