کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تحریک نفاذ اردو پاکستان نے اپنی نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے جس میں نفاذ اردو کی تحریک پر ڈیڑھ کروڑ دستخط کر وا کر وزیر اعظم پاکستان کو پیش کی جائے گی۔ دستخطی مہم کا افتتاح جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی سے دستخط کر وا کر کیا۔ تحریک نفاذ اردو شعبہ خواتین کی صدر صباء فضل سینئر نائب صدر صالحہ سلمان، صدر کلیم خان نے ڈاکٹر خالد عراقی سے دستخط لیے اور ان کا شکریہ ادا کیا، اس دستخطی مہم کا آغاز ملک گیر سطح پر کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مرکزی صدر عطا الرحمان چوہان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی مہذب قومیں اپنی قومی زبان کو ہر سطح پر ترجیح دیتی ہیں، پاکستان میں بعض لوگ اردو کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہے ہیں تاہم ملک کی اکثریت اس کے نفاز کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام خود تحریک نفاز اردو سے رابطہ کریں اور بڑھ چڑھ کر اس کار خیر میں حصہ لیں تاکہ تاریخ انہیں اسی طرح یاد رکھے جس طرح قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیے والوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے صباء فضل کا کہنا تھا کہ اردو کے نفاز کا مقصد انگریزی زبان کے پاکستان پر تسلط کا خاتمہ کرنا ہے اور اس تحریک میں ہر شہری حصہ لے سکتا ہے لوگ اپنے اپنے علاقے میں ایک 3 یا اس سے ذائد رکنی کمیٹی بنا کر اپنے اپنے علاقوں مین نفاز اردو کے مسودے پر دستخط کی مہم چلایں اور ایک کمیٹی کم از کم 500 دستخط کر وائے، صباء فضل نے بتایا کہ دستخطی مہم کی کامیابی کے لیے تحریک نفاذ اردو ملک بھر میں سیمینار، مزاکرے اور واک کا اہتمام بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں سرکاری اہم شخصیات، سیاستدانوں، فنکاروں شاعروں، ادیبوں،اور خصوصاََ صحافیوں کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ تحریک کے کارکنان ان سب سے بھی دستخط کروا کر انہیں بھی اپنی تحریک کا حصہ بنائیں گے۔
![]()