میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص ڈویژن سمیت سندھ بھر میں ہوش اڑا دینے والی مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں دودھ کی قیمت میں 24 روپے فی کلو اضافے کے ساتھ 86 روپے فی کلو سے 110 روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے۔ دالیں 120 روپے کلو انگور 500 روپے کلو، سیب 200 روپے کلو، سبزی گوار کی پھلی تین سو روپے کلو، ہر طرف مہنگائی عوام کا بہت برا حال ہوگیا ہے۔ رمضان المبارک سے قبل کھانے پینے کی اشیاء، زندگی بچانے والی ادویات میں دو سو فیصد اضافے کے ساتھ بجلی، پیٹرول، ڈیزل، گیس مہنگی ہونے سے عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی پھیل گئی۔ نوپ نیوز کی ٹیم جب میرپورخاص شہر کے مختلف دکانداروں فروٹس، سبزیاں، دودھ دہی، کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے دکانوں میڈیکل اسٹورز سمیت کپڑوں کی دکانوں کا دورہ کیا تو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی پر دکاندار اور گاہک بہت زیادہ پریشان اور حکومتی کارگردگی سے مایوس نظر آئے جبکہ میرپورخاص شہر کے علاوہ دور دراز علاقوں میں اشیاء خورد و نوش کی فروخت مزید مہنگی نظر آئی، شہر کے مختلف سبزی فروش اشیاء خورد و نوش فرو خت کرنے والے دکانداروں دودھ دہی اور پرچون کے دکانداروں کے علاوہ گوشت مچھلی، انڈوں، دال، چاول آٹے، آئل، گھی، مصالہ جات کی قیمتوں میں دو سو فیصد اضافہ نظر آیا جبکہ پان کی کیبن سے فی پان دس روپے کا کردیا گیا دو رروپے والی میٹھی چھالیہ پانچ روپے کی فروخت کی جارہی ہے۔ اس طرح زندگی بچانے والی ادویات سمیت تمام انگریزی اور ہومیو پیتھک کی ادوایت کے نرخ میں دو سو فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہوش اڑانے والی مہنگائی کے سبب عام شہری بہت مایوس اور پریشان نظر آئے۔ سیمنٹ، ریتی، لوہے، زرعی اجناس، کھاد اور بیج کے ریٹ میں بھی سو فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ پیٹرول، سی این جی اور ڈیزل کا ریٹ بڑھ جانے سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومتی سطع پر ریٹ لسٹ اور چیک بیلنس نہ ہونے کے باعث تاجر حضرات کی جانب سے من پسند ریٹ کے نام پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ دکانداروں اور عام شہریوں نے نوپ نیوز سے بات چیت میں دن بہ دن مہنگائی میں اضافے کی ذمہ دار عمران خان کی حکومت کو قرار دے دیا ہے اور کہا کہ وہ اس حکومت سے بہت ہی زیادہ مایوس ہوچکے ہیں۔
![]()