Home / اسلام آباد / پاکستان کو سیکولر بنانا ہوگا، پاکستان کے نام سے لفظ "اسلامی جمہوریہ” کو نکالا جائے، حفاظ کو ملنے والے 20 اضافی نمبروں کو ختم کیا جائے، اقلیتوں کے لیے علیحدہ حلف نامہ تیار کیا جائے، آسیہ بی بی کو ابھی تک قید میں رکھا گیا ہے ریاست کو جواب دینا ہوگا، سابق سینٹر بشری گوہر کا تقریب سے خطاب

پاکستان کو سیکولر بنانا ہوگا، پاکستان کے نام سے لفظ "اسلامی جمہوریہ” کو نکالا جائے، حفاظ کو ملنے والے 20 اضافی نمبروں کو ختم کیا جائے، اقلیتوں کے لیے علیحدہ حلف نامہ تیار کیا جائے، آسیہ بی بی کو ابھی تک قید میں رکھا گیا ہے ریاست کو جواب دینا ہوگا، سابق سینٹر بشری گوہر کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد ( رپورٹ: محمد جواد بھوجیہ ) نیشنل کانفرنس برائے انسانی حقوق جس کا انعقاد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کیا کا مقصد تو انسانی حقوق اور جمہوریت تھا تاہم وہاں پر ہدف تنقید صرف افواج پاکستان ہی رہی وہیں مذہب اور پاکستانی کے اسلامی تشخص کو نشانہ بنایا گیا تقریب سے اپنے خطاب میں سابق سینٹر بشری گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین کو سیکولر بنانا ہوگا اور اس کا آغاز ملک کے نام کی تبدیلی سے کیا جانا چاہیے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجائے جمہوریہ پاکستان ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حفاظ قرآن کو ملنے والے 20 اضافی نمبروں کا خاتمہ کیا جانا چاہیے وہیں پر حلف نامہ میں بھی ترمیم کی جائے اقلیتی ممبران اسمبلی اور کابینہ کے ارکان کو مسلمانوں کا حلف نامہ پڑھنا پڑھتا ہے۔ آسیہ بی بی کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ابھی تک رہا نہیں کیا گیا اس کو کس قانون کے تحت ابھی تک حراست میں رکھا گیا ہے پاکستان میں لوگوں کی آوازیں دبائی جارہی ہیں اس کا جواب ریاست کو اب دینا ہوگا۔

تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو افواج پاکستان پر تنقید کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ لوگ اسلام آباد کے ریڈ زون میں بیٹھ کر ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور آزادی رائے اظہار پر قدغن کی بات کررہے ہیں، ایسا کہنا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کیا جاتا سراسر غلط ہے پاکستان میں آزادی راے اظہار پر کوئی قدغن نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندی صرف مذہبی نہیں اس کی کئی اقسام ہیں افسوس کے چند لوگوں کو صرف مذہبی شدت پسندی نظر آتی ہے۔ یکساں نظام تعلیم کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یکساں سرٹیفیکیشن لارہے ہیں اب سکول اور مدرسے کے بچے ایک ہی سلیبس پڑھیں گے اس یکساں سرٹیفیکیشن سے غریب اور امیر کے تعلیمی فرق کا خاتمہ ہوگا اب ایسا نہیں ہوگا کہ غریب کا بچہ اور اور امیر کا بچہ الگ الگ سلیبس پڑھیں گے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آمروں کا تحفہ تھا، یہ جنگ ہماری نہ تھی آمروں خاص طور پر جنرل مشرف نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے نت نئے فوجی آپریشن کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کو پارٹی صدارت سے علیحدہ کرنے کے لیے عدالتی فیصلوں کا سہارا لیا گیا۔

سابق صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا انہوں نے مزید کہا کہ چند افراد کی طرف سے صدارتی نظام کی رٹ لگا جارہی ہے۔ ہمارے پارلیمانی نظام کو ان افراد سے خطرہ ہے جو صدارتی نظام کے حق میں مہم چلارہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ سسٹم میں بار بار مداخلت ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

وینزویلا میں زلزلہ اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کا جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے وینزویلا میں آنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے