اسلام آباد(محمد جواد بھوجیہ ) چیئرمین قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی علی خان جدون نے وزارت آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ پولیس موبائل خدمت مرکز ملتان کی طرح اسلام آباد میں بنانے کے لیے وزارت داخلہ کے ساتھ مل کرکام کیا جائے یہ ایک اچھا ماڈل ہے عوام کو ریلیف مل رہا ہے، رکن کمیٹی زین قریشی نے کمیٹی کو بتایا کہ تین پولیس موبائل میسز میں یہ قائم کی گئی ہیں وزیراعلیٰ سے پورے پنجاب میں اس ماڈل کو رائج کرنے کی درخواست کی ہے۔ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کی 16475 ملین روپے کی پی ایس ڈی پی کے 23 منصوبوں بھی منظوری دے دی۔ کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ آئی ٹی پارک لاہور کی زمین پر سرکاری ادارے نے قبضہ کرلیا ہے اور وہاں پر پھول پودے لگادئے ہیں جس پر وزارت نے سول ایوی ایشن سے زمین کی قیمت واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزارت آئی ٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 1684 ویب سائٹس بلاک کئے جاچکے ہیں ارکان پارلیمنٹ کے نام جعلی 71 اکاؤنٹس بلاک کئے ہیں ایف آئی اے کو سوشل میڈیا کے حوالے سے 29577 شکایات موصول ہوئی، پاک فوج کے خلاف پرپیگنڈے کے 3528 میں سے 2315 لنک بلاک کئے، ایف آئی اے نے توہین آمیزمواد، حراساں یا دھمکیاں دینے اور پونوگرافی کے حوالے سے تمام شکایات پر مکمل عمل کیا ہے۔ چیرمین کمیٹی علی خان جدون کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی اور آئی ٹی حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی علی خان جدون نے ملتان میں موبائل خدمت مرکز کو اسلام آباد میں لانے کے لیے وزارت داخلہ کے ساتھ مل کرکام کیا جائے اس سے عوام کو فائدہ ہوگا تاکہ عوام موبائل ویل کے اندر اپنے دستاویزات کی تصدیق، نئے ڈرائیونگ لائسنس و دیگر دستاویزات بناسکیں یہ ایک بہترین ماڈل ہے اس کی وجہ سے عوام کورٹ کچہریوں میں دھکے کھاتے ہیں۔ اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورت حال دیکھنے کو ملی جب وزارت نے پی ایس ڈی پی پر یریفنگ دینے شروع کی اور ان کی بریفنگ سکرین پر نہیں چل رہی تھی جس پر چیئرمین کمیٹی نے برخاستہ کہا کہ آئی ٹی کی وزارت ہے اور آئی ٹی والوں سے ایکسل پروگرام نہیں چل رہا ہے جس پر کمیٹی میں زور سے قہقہے لگ گئے۔ وزارت آئی ٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں کل 13 آئی ٹی پارکس ہیں مگر سب کی عمارتیں کرائے پر لی گئی ہیں جس کی وجہ سے ہر سال ان کا کرایہ بڑھتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ اپنی عمارت بنائیں تاکہ ان مسائل کو حل کیا جاسکے پہلا آئی ٹی پار ک اسلام آباد چک شہزاد میں بنے گا جس کی چادیواری 70 فیصد مکمل ہوچکی ہے اور اس میں عمارت 12 ایکڑ پر بنے گی جس کے لیے 18 اپریل کو کوریا کے بینک سے تفصیلات طے ہوجائیں گی جبکہ دوسرا آئی ٹی پارک کراچی میں بنایا جائے گا۔ کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ لاہورمیں آئی ٹی پارک کے لیے سی اے اے سے خرایدی گئی زمین پر آرٹیکلچر نے قبضہ کرکے وہاں پر پھول و پودے لگا دئے ہیں جس پروزارت نے سول ایوی ایشن سے اپنی رقم واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے کمیٹی نے 2016 سے چک شہزاد میں آئی ٹی پارک پر اب تک چار دیواری نہ بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو فورا مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کا دور ہے تین سال میں آئی ٹی پارک کی چار دیواری نہ بن سکی۔ وزارت آئی ٹی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا ہے پی ٹی اے سوشل میڈیا پر موجود جعلی اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے متعلقہ فورمز کو درخواست کرنی پڑھتی ہے اس حوالے سے ایک شکایت سیل بنایا گیا ہے جس پر حکومتی ادارے اور عوام شکایت کرتے ہیں جس کے بعد متعلقہ مواد کو دیکھا جاتا ہے اور ان کو بلاک کیا جاتا ہے اب تک 1684 ویب سائٹس، اکاؤنٹس بلاک کئے جاچکے ہیں جن میں ڈیلی موشن کے 106، فیس بک کے 842، انسٹاگرام کے 13، دوسرے ویب سائٹس207، ٹویٹر کے 276 اور یوٹیوب کے 240 اکاؤنٹس شامل ہیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کے نام سے بنائے گئے جعلی اکانٹس کے بارے میں وزارت اطلاعات و نشریات معلومات دیتی ہے اب تک 71 ایسے اکاؤنٹس بلاک کئے گئے ہیں جو مختلف ارکان پارلیمنٹ کے نام سے بنائے گئے تھے جن میں 7 فیس بک اور 64 ٹویٹر پر بنائے گئے تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے سائبر کرایم ونگ کو جعلی اکاونٹس، غیر مہذب مواد، حراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے حوالے سے 29577 شکایات موصول ہوئی جن میں 34846 ویب سائٹس کی شکایت کی گئی تھی جعلی اکاؤنٹس میں 13055 میں سے 8723 اکاؤنٹس کو بلاک کردیا گیا ہے، ہیک کرنے کے حوالے سے 3311 میں سے 2103، حراساں کرنے کے 5022 میں سے 5022، توہین آمیز مواد کے 4022 میں سے 4022، بلیک میلنگ کے 6022 میں سے 5472، پاک فوج کے خلاف پرپیگنڈے کے 3528 میں سے 2315، پونوگرافی کے 4233 میں سے تمام لنک اور سوشل میڈیا پر لوگوں کا تعاقب (سٹالکنگ) کے 540 میں سے 230 اکاؤنٹس کو بلاک کیا گیا۔ ایف آئی اے نے توہین آمیز مواد، حراساں کرنے دھمکیاں دینے اور پونوگرافی کے حوالے سے تمام شکایات پر مکمل عمل کیا ہے۔ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کی 16475 ملین روپے کی پی ایس ڈی پی کی بھی منظوری دی جس میں 8 جاری منصوبوں کے لیے 6661.123 ملین اور نئے 15 منصوبوں کے لیے 9814.394 ملین روپے بنتے ہیں۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام کی ای آفس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ای آفس کا مطلب فائلنگ اور فائنگ کی آٹومیشن ہے، این آئی ٹی بی حکام نے کہا کہ لیول ٹو پر وہ وزارتیں ہیں جن کا کوئی ایک ونگ ای آفس کے پیرا میٹر پر پورا اترے۔ سیکرٹری آئی ٹی معروف افضل نے کہا کہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو خود مختار ادارہ بنا رہے ہیں، اس سال کے آخر میں باقی تمام وزارتوں ای آفس کے لیول ون پر لے آئیں گے، 42 میں سے 26 وزارتیں ای آفس کے لیول ٹو پر ہیں، این آئی ٹی بی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بہت سی وزارتوں نے ای آفس کے حوالے سے گرمجوشی نہیں دکھائی ہم نے وزارتوں کا سروے کرلیا، ای آفس کیلئے سامان فراہم کریں گے، اگلے سال جون تک تمام وزارتوں کو لیول فور پر لے جائیں گے سیکرٹری آئی ٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت چیف ٹیکنالوجی آفیسر تعینات کرے گی، چیف ٹیکنالوجی آفیسر ای آفس کے تمام منصوبے کو مانیٹر کرے گا جس پرایم این اے زین قریشی نے کہا کہ ہمیں ای آفس کے ساتھ سیکورٹی بڑھانا ہوگی۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کہا کہ آئی ٹی ٹاسک فورس نے آئی ٹی سے متعلق سلیبس کا تعین کیا ہے، ٹاسک فورس نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو وہ نصاب تجویز کیا ہے، اپنے آئی ٹی پارکس بنائیں گے تو اس میں کمپنیوں کو سبسڈی فراہم کی جائے گی ہم آئی ٹی پارکس کیساتھ ساتھ اکنامک زونز بھی تیار کرنا چاہتے ہیں۔ وزارتوں کی ویب سائیٹس پر معلومات نہ ہونے پر ایم این اے زین قریشی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کا کوئی سر پیر نہیں وفاقی وزارتوں کی ویب سائیٹس اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں، تمام وزارتوں کی ویب سائٹس کا ایک ہی ٹیمپلیٹ ہونا چاہیے، جس پر این آئی ٹی بی حکام نے کہا کہ وزارتوں کی ویب سائیٹس کو ایپ ڈیٹ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنسز کی تجدید کے معاملے پی ٹی اے کرتا ہے پی ٹی اے کو پالیسیاں وفاقی حکومت فراہم کرتی ہے لائسنس کی تجدید کے حوالے سے پالیسی میں الفاظ کی تبدیلی کی گئی ہے پی ٹی اے ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنسز کی تجدید کا عمل مکمل کرائے گی پی ٹی اے اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ اس طرح کے فیصلے کرے گا ہر بدلتے وقت کے لئے ایک پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے جو دی جاچکی ہے جس سے تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاجائیں گے۔
![]()