راولپنڈی (بیورو رپورٹ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفینگ کے دوران بتایا ہے کہ 1981ء سے 1984ء کا ایسا وقت تھا جس میں ہماری مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا، ہم نے دوبارہ استحکام کی طرف جانا شروع کیا لیکن پر سیاچن کا محاذ کھولا گیا، ایسا علاقہ جہاں پاک فوج کی موجودگی نہیں تھی وہاں آۓ ہمارے علاقے پر قبضہ کیا اس وقت سے آج تک دنیا کے بلند ترین محاذ پر ہماری فوج ڈٹی ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آج کی پریس کانفرنس کیلئے بہت سے موضوعات تھے لیکن زیادہ تر بات پلوامہ حملے اور بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بات ہوگی، آج صحافیوں کےسوالات زیادہ لیےجائیں گے۔ میجر آصف غفور نے کہا بنیادی طور پر سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے، دشمنوں کا ٹارگٹ ہماری نوجوان نسل ہے، پاک بھارت تعلقات کا ایک تاریخی پس منظر ہے، 1965 میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، جنگ کے اثرات پڑے، مکتی باہنی کا کردار سامنے ہے، موجودہ بھارتی وزیراعظم اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ چینل کے مطابق انہوں نے کہا کہ اصل دہشت گردی تواس وقت کی گئی جب مکتی باہنی کا کردارمتعارف کرایا گیا، 1997 سے 1994 تک مشرقی سرحد پر کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، ہم نے ترقی کی طرف دوبارہ سفرشروع کیا، بھارت کی جانب سے سیاچن کی جانب پیش قدمی کی گئی۔
![]()