راولپنڈی (بیورو رپورٹ) پاک فوج کے ترجمان نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کے بروقت جواب نہ دینے کی وجہ بتادی اور اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے بھارتی الزامات پر جواب دینے کے لیے وقت لیا اور اپنے تئیں الزامات کی تحقیق کی جس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نے جواب دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ 14 فروری کو پلوامہ میں قابض بھارتی فوج کو کشمیری نوجوان نے نشانہ بنایا جس کے فوری بعد بھارت کی طرف سے بغیر سوچے سمجھے الزامات شروع ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ ففتھ جنریشن وار فیئرکا ہدف ہماری نوجوان نسل ہے ، نوجوان نسل اس حملے کے پس منظر کو سمجھ سکے، پاکستان کی آزادی کی حقیقت کو انڈیا آج تک تسلیم نہیں کرسکا، بہتر سال سے کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے ، کشمیرپر بھارتی فوج کے حملے کے وقت ہم نوزائیدہ ملک تھے، مشرقی پاکستان میں بھارت کی طرف سے مکتی باہنی تحریک چلائی گئی ,1971 میں سازش سے ہمیں دولخت کیا گیا، اور بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم نے بھی اس کا اعتراف کیا لیکن بالآخر ہم اس سانحے کے بعد بھی سنبھل گئے۔ میجرجنرل آصف غفور نے بتایا کہ ہم نے دفاع کے لیے جوہری طاقت حاصل کی اور پھر بھارت نے ملک کے اندر دہشتگردی شروع کردی، مغربی سرحد پر دہشتگردی کو روکنے کی کوشش کی تو بھارت نے مشرقی سرحد پر گڑبڑھ شروع کردی اور ہماری توجہ مشرقی سرحد پر مرکوز ہوگئی جس سے دہشتگردی کو پھیلنے میں آسانی ہوئی، اگر مشرقی سرحد پر نہ الجھتے تو دہشتگردی کو پنپنے کا موقع نہ ملتا۔
![]()