تحریر: ذیشان حسین
27 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جب جمہوریت کی سب سے توانا آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی یہ دن صرف ایک سیاسی رہنما کی شہادت کا دن نہیں بلکہ قومی شعور پر لگنے والا وہ زخم ہے جو ہر برس تازہ ہو جاتا ہے 27 دسمبر 2007 کی شام راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر گولیوں اور دھماکے نے پاکستان کو سوگ میں ڈبو دیا، اور دنیا نے ایک منتخب عوامی قائد کو خون میں نہاتے دیکھا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو محض ایک سیاستدان نہیں تھیں بلکہ ایک نظریہ، ایک جدوجہد اور ایک امید کا نام تھیں وہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں جنہوں نے آمریت، جلاوطنی، قید و بند اور مسلسل جان لیوا دھمکیوں کے باوجود جمہوری سفر ترک نہ کیا۔ ان کی سیاست اقتدار کے گرد نہیں بلکہ عوام کے گرد گھومتی تھی ووٹ کی حرمت، آئین کی بالادستی اور پارلیمان کی خودمختاری ان کی جدوجہد کے بنیادی ستون تھے، اور یہی اصول بالآخر ان کی شہادت کا سبب بنے۔
27 دسمبر کے بعد پاکستان صرف ایک قائد سے محروم نہیں ہوا بلکہ اس سیاسی توازن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا جو مختلف اکائیوں کو جوڑے رکھتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کو بجا طور پر ’’چاروں صوبوں کی زنجیر‘‘ کہا جاتا تھا، کیونکہ ان کی قیادت اور جماعت ملک کے ہر کونے میں قابلِ قبول تھی۔ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والا خلا آج بھی برقرار ہے، اور شاید اسی خلا کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آج شدید سیاسی تقسیم، عدم برداشت اور مکالمے کے فقدان کا شکار ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو مفاہمت اور برداشت کی سیاست پر یقین رکھتی تھیں۔ میثاقِ جمہوریت ان کی سیاسی بصیرت کا عملی اظہار تھا، جس نے آمریت کے مقابل جمہوری قوتوں کو یکجا کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، ادارہ جاتی توازن اور آئینی عمل ہی جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر وہ آج زندہ ہوتیں تو شاید سیاست گالی نہ بنتی اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہوتا۔
ان کا وژن سیاست سے آگے بڑھ کر معیشت، سماجی انصاف، خواتین کے حقوق اور نوجوانوں کے مستقبل تک پھیلا ہوا تھا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات ان کی عوام دوست سوچ کی روشن مثال ہیں، جنہوں نے لاکھوں محروم گھرانوں کو ریاستی تحفظ فراہم کیا۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھیں کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے کمزور طبقات ہوتے ہیں، اور ان کو نظرانداز کر کے کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
آج 27 دسمبر کو جب ہم ان کی برسی مناتے ہیں تو یہ دن محض یاد کا دن نہیں بلکہ خود احتسابی کا لمحہ بھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیا قربانی دی، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے نظریات کو کس حد تک آگے بڑھایا؟ کیا ہم نے جمہوریت کو مضبوط کیا، عوام کو بااختیار بنایا اور سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنایا؟ 27 دسمبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس قربانی کو اپنے خون سے امر کر دیا وہ آج بھی زندہ ہیں قوم کی اجتماعی یادداشت میں، تاریخ کے سنہری اوراق میں اور اس امید میں کہ ایک دن پاکستان وہ ملک بنے گا جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔