حیدرآباد (رپورٹ: سبحان بلوچ) سندھ نیشنل ناری تحریک نے لاڑکانہ کی معصوم بچی صائمہ جروار کے بے رحمانہ قتل پر صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا، سندھ میں معصوم بچیوں اور بچوں کہ ساتھ جنسی زیادتیوں کہ بعد ان کو بیدردی سے قتل کرنے کہ واقعات میں اضافہ پرامن سندھی قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے جس کا حکمران نوٹس لیں، لاڑکانہ کی معصوم بچی صائمہ جروار کے قتل میں ملوث قاتلوں کو گرفتار کر کہ ان کو سخت سزا دی جائے دوسری صورت میں سندھ نیشنل ناری تحریک صائمہ جروار کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مرحلہ وار احتجاجی مظاہرے کرے گی، ان خیالات کا اظہار سندھ نیشنل ناری تحریک کی صدر ڈاکٹر عظمی جوکھیو، مرکزی رہنمائوں ڈاکٹر عابدہ صدیقی، شاہدہ یوسفزئی، سندھو اشرف نوناری، مونا جونیجو ودیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا، انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کی معصوم صائمہ جروار کا واقعہ قصور کی معصوم بچی زینب جیسا واقعہ ہے مگر افسوس اس واقعہ پر قومی میڈیا، آزاد اعلی عدلیہ اور حکومت نے مجرمانی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، انہون نے کہا کہ لاڑکانہ کی معصوم بچی صائمہ جروار کو وحشی درندوں نے گلا دبا کے بیدردی سے قتل کیا تھا جس پر لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو اپنی نا اہلی کا اعتراف کرتے ہوئے اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے، لاڑکانہ سانحہ انسانی وحشیت اور درندگی کی آخری انتہا ہے جس سے انسانیت کے سر شرم سے جھک گئے ہیں، انہون نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ معصوم بچی صائمہ جروار کے قتل کا از خود نوٹس لیں، صائمہ جروار کے قاتلوں اور ان کے سہولتکاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، انہوں نے کہا کہ جب تک معصوم صائمہ جروار کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ان کو سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک سندھ نیشنل ناری تحریک (خواتین ونگ) خاموش نہیں بیٹھے گی، سندھ نیشنل ناری تحریک صائمہ جروار کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے سندھ بھر میں مرحلہ وار احتجاجی مظاہرہ کرے گی-
![]()