سانحہ ساہیوال، پولیس گردی کا تسلسل
تحریر: عمران چودھری
ساہیوال میں پیش آنے والا انتہائی دلخراش واقعہ کی بنیادی وجوہات یعنی پولیس کو سالہا سال سے بگاڑنے اس ملک کے بے بس عام شہریوں کو پٹوار اور پولیس کے ظلم و ستم کا شکار بنائے رکھنے میں ماضی کے انتہائی کرپٹ اور ظالم حکمران ذمہ دار ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاون سے لے کر سانحہ ساہیوال میں نہتے شہریوں پر پولیس اہلکاروں کا سیدھا فائر کھولنا عورتوں مردوں کو چھلنی کرنے کے پیچھے پنجاب پولیس کو ماضی میں عابد باکسر جیسے پولیس انسپکٹرز اہلکاروں کے ذریعے شہباز شریف کا جعلی پویس مقابلوں میں بے گناہ شہریوں کو نہایت سفاکی سے قتل عام کرانے میں استعمال کرنا آن دی ریکارڈ ہے۔ پنجاب پولیس تمام صوبوں کی نسبت زیادہ کرپٹ اور ظالم اسی وجہ سے ہے کہ یہاں ان کی ڈوری شریف فیملی کے طویل دور اقتدار کے دوران ان کے پاس رہی انہوں نے ہمیشہ سیاسی و نظریاتی مخالفین کے خلاف پولیس گردی کھل کر کروائی، سانحہ ماڈل ٹاون میں بھی خواتین پر پولیس نے دو چار فٹ سے سیدھا فائر کیا اور خواتین کو گولیوں سے بھون دیا تھا، 14 افراد کو پولیس نے شہباز اینڈ نواز کے سختی کے حکم پر گولی سے دبانے کے حکم پر ہی نہتے شہریوں کو قتل کیا تھا، دنیا سوگ میں ڈوب گئی تھی کہ کیسے حکمران ہیں جنہوں نے اپنے خلاف دبانے کے لئے شہریوں کے محافظوں پولیس اہلکاروں کے زریعے اپنے نہتے شہریوں کو سرعام قتل کرادیا، اب سانحہ ساہیوال میں نہتے شہریوں کے اندھے قتل میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اسی جگہ پر گولیوں سے چھلنی کیا جائے ورنہ عوام خود بدلہ لینے باہر نکلیں گے۔ گزشتہ 5 برس میں جعلی پولیس مقابلوں میں 1626 پاکستانی شہری شہید کیے گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن کو میری حقائق پر مبنی یہ باتیں بری لگ رہی ہیں، ان پٹواری ن لیگی ورکرز شریف فیملی کے ذہنی غلاموں نے تب بھی سانحہ ماڈل ٹاون پر افسوس کا اظہار بھی کم ہی کیا تھا۔ یہ کیا جانیں اس پنجاب پولیس کو نواز اینڈ شہباز اپنی کرمنل فورس کے طور پر کیسے استعمال کرتے رہے ہیں؟ ان کی ترقیاں کس بنیاد پر یہ کرتے؟ پٹوار خانوں اورتھانوں کی سیاست کرنے والی ن لیگ نے اس ملک کے ہر ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا، انہوں نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں پولیس افسران کی پروموشن کا جو "معیار” رکھا تھا اس پر تفصیل سے پھر لکھیں گے، انتہائی بھونڈا رویہ تھا جیسے اس پولیس کو اپنی جیب سے تنخواہیں دیتے رہے، پنجاب پولیس شریف خاندان کی زاتی کرمنل فورس بنی ہوئی تھی، تھانوں کی سیاست کرنے والی ن لیگ سے، اسی کرپٹ و ظالمانہ سیاسی کلچر سے رہائی اور تبدیلی کا ووٹ لینے والی حکومتی جماعت تحریک انصاف کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں سخت چیلنجز درپیش ہیں۔ حکمرانوں کے احکامات پر جعلی پولیس مقابلوں میں استعمال ہونے والے پولیس اہلکاروں کے نزدیک ذاتی دشمنی یا معمول کی لوٹ کھسوٹ، راہزنی کی وارداتیں کرتے ہوئے شہریوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنا پھر اسے مزاحمتی یا دہشتگردی کا واقعہ قرار دے کر عدالتوں سے ریلیف پانا معمول کی کارروائیاں ہیں، میں نے ساہیوال کے اندوہناک پولیس گردی کے واقعہ کو حقائق کے پیش نظر اصل مجرم ماضی کے حکمران شریف برادران کے انداز حکمرانی اور ان کی تربیت قرار دیا تو کچھ دوست سوشل میڈیا پر ناراض ہو رہے تھے، حالانکہ وہ بھی سب حقائق جانتے ہیں، شہریوں کو جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے والے موجودہ اپوزیشن لیڈر سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے تو ایسے ہی بے دردی سے اربوں روپے کے کرپشن زدہ منصوبوں کے ریکارڈ، ثبوتوں کو ختم کرنے کے لیے بھی سرکاری املاک سرکاری عمارتوں کو بھی نذر آتش کرایا ہے۔ موجودہ حکومت کو سخت محنت اور تندہی سے ذمہ داری کے ساتھ چیلنج سمجھ کر کام کرنے اور تمام سرکاری محکمہ جات میں اصلاحات لانے، سخت قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے، طویل ترین عرصہ 30 سال سے زائد تک پنجاب ن لیگ کے زیر تسلط رہا اب چند ماہ قبل وفاق، کے پی کے اور پنجاب میں بننے والی تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو بہت زیادہ توقعات ضرور ہیں لیکن اس کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ جو کئی دہائیاں کرپٹ ظالم حکمرانوں کو برداشت کیے ہوئے اور تاحال ان کے ذہنی غلام بنے ہوئے ہیں وہ اب تھوڑا صبر کریں، گزشتہ دور حکومت میں خیبر پختونخواہ میں پولیس کو بہت زیادہ بہتر کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت پنجاب پولیس کو بھی ضرور ٹھیک کرنے میں کامیاب ہوگی۔ سانحہ ساہیوال کے ملزمان اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچیں گے۔ تفصیلی رپورٹ اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرنے کے لئے تین دن کا وقت جے آئی ٹی کو دیا گیا ہے جبکہ ملوث اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
![]()