بنکاک (رپورٹ: عمران یوسف) بنکاک اور تھائی لینڈ کے دوسرے شہروں میں کرسمس کے موقع پر مختلف تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ اوورسیز پاکستانی کرسچن کمیونٹی، تھائی اور دوسرے ممالک کے لوگوں نے مل جل کرنے بنکاک میں چرچوں اور مختلف مقامات پر کرسمس منائی اور کرسمس کیک کاٹے۔ گرجا گھروں اور مختلف شاپنگ کمپلیکس کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔ اور مختلف برینڈ نے اپنے برینڈ کی بڑی سیل لگائی جس سے بازاروں میں کافی رش دیکھا گیا۔ جبکہ مرد و خواتین اور بچوں نے مذہبی تہوار کے حوالے سے خریداری بھی کی۔ اورسیز پاکستانی کرسچن کمیونٹی نےملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعائیں کی گئیں۔ کرسمس خدا کے فضل کو منانے اور نعمت کی شکر گزاری کرنے کا دن ہے کرسمس کا دن عام کی طرح ایک دن تک محدود نہیں بلکہ اس کی خوشی بارہ دن تک رہتی ہے یہ خوشی کرسمس سے شروع ہو کر یکم جنوری تک منائی جاتی ہے پاکستان میں ظہور مسیح یکم جنوری کے بعد آنے والے اتوار کو منائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی کرسمس ختم ہو جاتا ہے کرسمس کے لئے چار اتوار کو تیاری کی جاتی ہے بائبل کا مطالعہ کرتے ہوئے انبیاء کی پیشنگوئی پر غورکیا جاتا ہے اور اپنے دلوں کو تیار جاتا ہے کرسمس کے موقع پر مسیحی قوم عجیب قسم کی خوشی محسوس کرتے ہیں ایک ایسی خوشی جس کا تجربہ عام تہواروں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کرسمس کے موقع پر بہت سی علامات نمایاں دکھائی دیتی ہیں مثلاً کرسمس ٹری، سانتاکلاز، روشنیاں، بال، سٹار، وغیرہ یہ سب علامات بامعنی ہیں۔سانتاکلاز کرسمس پر ایک کردار بن چکا ہے جو بچوں کوتحائف دیتا ہے۔ کرسمس ٹری سجا وٹ کا حصہ ہے کرسمس ٹری سدا بہار درخت سے بنایا جاتا ہے اس کو غور سے دیکھیں تو یہ مثلث کی شکل کا ہوتا ہے مثلث خدا کی واحدنیت کو ظاہر کرتا ہے اس سدا بہار درخت کے نوکیلے پتے فطرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
![]()