کراچی (رپورٹ: زیشان حسین) عدالتی احکامات کے برخلاف ملازمین معططلی کا شکار- سرکاری ملازم کو زبردستی، کسی سیاسی دباؤ یا پھر انکوائری کی صورت میں بھی زیادہ مدت کے لئے معططل یا او ایس ڈی نہیں رکھا جاسکتا، انکوائری جلد مکمل کرنے کا حکم – بلدیہ عظمی کراچی میں عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑانا معمول بن گیا، اعلی عدلیہ کے احکامات کے برخلاف ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اسٹیٹ (کے ایم سی) محمد عثمان واسع سمیت کئی افسران تاحال معططلی کا شکار ہیں اور شدید بے چینی و عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا ہوچکے ہیں، جبکہ میئر کراچی وسیم اخترجوکہ آجکل اعلی عدلیہ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں ان کی ناک کے نیچے بلدیہ عظمی کراچی کے دفتر میں ہی معزز عدلیہ کے احکامات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور وہ مسلسل پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کسی بھی سرکاری ملازم یا افسر کو زبردستی، کسی بھی سیاسی دباؤ کی وجہ سے یا پھر کسی انکوائری کی صورت میں بھی زیادہ مدت کے لئے معططل یا او ایس ڈی نہیں رکھا جاسکتا ہے انکوائری کی صورت میں انکوائری کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔ جبکہ عدالتی احکامات کے یکسر برخلاف بلدیہ عظمی کراچی کے محکمہ اسٹیٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ”محمد عثمان واسع “ کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال بحال نہیں کیا گیا ہے جبکہ انکے ساتھ دیگر کئی افسران جوکہ سیاسی عتاب کا نشانہ بنے ہیں تاحال اپنی پوسٹنگ کے انتظار میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلدیہ عظمی کراچی میں ایسے افسران اور ملازمین کی طویل فہرست موجود ہے جنہیں مختلف افسران کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے عہدوں سے برطرف کردیا گیا تھا اور وہ تاحال کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، واضح رہے کہ بلدیہ عظمی کراچی میں میئر کراچی وسیم اختر کے قریبی اورمنظور نظر افراد میں شمار کئے جانے والے کئی افسران ایک سے زائد محکموں پر براجمان ہیں اور اپنے زیر انتظام محکموں میں بد انتظامی و کرپشن کی از خود وجہ بھی بتائے جاتے ہیں۔ بلدیہ عظمی کراچی کے متاثرہ ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلی سندھ، وزیر بلدیات اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلدیہ عظمی کراچی میں محکمہ جاتی امور میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کروائیں اور متاثرہ ملازمین کی بحالی کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں۔
![]()