کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) گورنر سندھ محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل کا حل صرف بجلی کی پیداوار میں اضافے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، نکاسی آب، ساحلی علاقوں کے تحفظ اور عوامی شمولیت کو بھی ترجیح دینا ہوگی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی مہم کو کانفرنسوں اور سیمیناروں سے آگے بڑھاتے ہوئے اسکولوں، جامعات اور ساحلی آبادیوں تک پہنچایا جائے
گورنر سندھ نہال ہاشمی کراچی میں دو روزہ سندھ توانائی و ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندری آلودگی پر تشویش ہے قدرتی سمندری وسائل کے تحفظ اور شہری تنظیموں کو عوامی شعور اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے گورنر سندھ نے کانفرنس کی سفارشات متعلقہ سرکاری محکموں اور گورنر ہاؤس کو ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی۔
کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں ماہرین نے شمسی توانائی کے فروغ، بجلی کی ترسیل و تقسیم، ہوا سے بجلی کی پیداوار، برقی گاڑیوں اور توانائی کی بچت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی کے نظام کی زیادہ لاگت کے باعث کم آمدنی والے طبقے کو اس سہولت تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے رینیوایبلز فرسٹ کے ڈاکٹر اویس عبدالرحمٰن کے مطابق پاکستان میں بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت تقریباً 45 ہزار میگاواٹ جبکہ نجی سطح پر نصب شمسی نظاموں کی صلاحیت تقریباً 38 ہزار میگاواٹ ہے، سندھ میں تقریباً پانچ ہزار میگاواٹ کے شمسی نظام قومی بجلی کے نیٹ ورک سے منسلک نہیں مقررین نے شمسی آلات کی مرمت اور دیکھ بھال، شدید گرمی سے مزدوروں کے تحفظ، صاف پانی کی فراہمی اور کام کی جگہوں پر مناسب سہولتوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر دریائے سندھ کے ڈیلٹا، بدین اور تھرپارکر کی متاثرہ آبادیوں نے پانی کی قلت، زرعی مسائل، بے دخلی اور بجلی کی عدم فراہمی سے متعلق شکایات پیش کیں۔ شرکا نے پانی کی منصفانہ تقسیم، متاثرین کو مناسب معاوضے، ماحولیاتی فنڈز کے ثمرات کمزور طبقات تک پہنچانے اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی بامعنی شمولیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کا انعقاد 3 اور 4 نومبر کو سات سماجی و تحقیقی تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا۔