میہڑ (رپورٹ: عبدالرحمان قمبرانی) میہڑ فريد آباد کچے کے علاقے میں گذشتہ ایک سال سے زائد بااثر افراد نے پانی بند کر کے یزیدیت برپا کردی ہزاروں ایکڑ زمین پر گندم کی فصل کاشت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے شدید خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہوگیا ہے- فرید آباد کچے میں پانی کی قلت کا سندھ سرکار اور منتخب نمائندوں نے بھی نوٹس نہیں لیا جس کے باعث کچے کے مکین پانی کے قطرے قطرے کے لیے ترس رہے ہیں کچے کے مکین پیاس میں مرنے لگے منتخب نمائندے گھر یا نیند میں- کچے میں پانی کے قلت اور سندھ میں تیسری بار مسلسل 11 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے مسائل کا حل نہیں ہو سکا کچے کے مکینوں کی راتوں کی نیندیں پینے کے پانی کے لیے حرام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان پینے کے پانی کی قلت کے باعث ذہنی بیماریوں میں مبتلا علاقے کے کنویں پر مکینوں کی بھیڑ جبکہ کنواں میں چند منٹوں کے لیے پانی جمع ہوتے ہی ختم ہونے کے بعد مکینوں کی نظریں کنواں میں ہوتی ہے- دوسری بار پانی کنواں میں جمع ہوتے ہوئے پانی زہریلا بن گیا ہے جو انسان کی صحت کے لیے نقصان دے ہے مکینوں کو درد، خارش اور جلدی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے جب کہ کچے کے لوگ علاقے کی مسجدوں میں نماز کے لیے اور سکولوں میں طلبہ کے لیے اور ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے پانی نا ہونے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ کچے میں پانی کے لیے پریشان کچے کے مکینوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، واٹر کمیشن بورڈ کے چیئرمین جسٹس امیر مسلم ہانی اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کےعلاقے میں پانی کی قلت کا نوٹس لیکر پینے اور فصل کے پانی کا مسئلہ حل کروا کر انسانوں اور جانوروں کو مرنے سے بچایا جائے-
![]()