کراچی (رپورٹ: عمران عاطف چوہدری) پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والا بھارت اپنے ہی مکر فریب میں پھنس گیا- بمبئی حملے میں بھارت نے اجمل قصاب کو پاکستانی شہری قرار دیا تھا- بھارتی اخبار ٹائم آف انڈیا کے مطابق اجمل قصاب کا بھارتی شہری ہونے کا ثبوت مل گیا ہے اور اس کا ایک ڈومیسائل بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اوریہ تحصیل بھیڈونا کا بنا ہوا ہے- وہ اس ڈومیسائل کی وجہ سے بھارتی شہری اور رہائشی ہے اور اس کا ڈومیسائل بھی بنا ہوا ہے- یاد رہے کہ اجمل قصاب نے 26 نومبر 2008 کو بمبئی میں ہوٹل تاج پر اپنے 9 ساتھیوں سمیت حملہ کیا تھا جس میں اس کے تمام 9 کے 9 ساتھی تو ہلاک کردیے گئے اور یہ دسواں حملہ آور زندہ پکڑا گیا- اب حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں- اجمل قصاب کے تمام ساتھی اس حملے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اجمل قصاب کو زندہ سلامت کیسے گرفتار کرلیا گیا؟ بات صاف ہے کہ یہ بھارت کا ہی بنایا ہوا جال تھا جس میں اس نے صرف ایک دہشت گرد کو گرفتار کر کے دکھانا تھا کیونکہ عالمی میڈیا میں وہ پاکستان کو قصور وار ٹہرانا چاہتا تھا- اس حملے کا الزام جماعت الدعوه اور لشکر طیبہ پر لگایا گیا کہ ان دہشت گردوں کا تعلق ان جماعتوں سے تھا- حملے میں 164 افراد ہلاک ہوۓ تھے جبکہ 308 زخمی ہوۓ تھے- بھارت کی اس سازش کو عالمی میڈیا نے مکمل کوریج دی اور پاکستان کی جگ ہنسائی کی اور بھارت کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا- اجمل قصاب کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور 4 سال تک اس مقدمے کو چلایا گیا اور اجمل قصاب کو سزاۓ موت کی سزا سنا دی گئی- اجمل قصاب کو 21 نومبر 2012 کو پھانسی دی گئی- اب بھارت نے اپنے اس مہرے پر کس طرح اخراجات کیے مقدمے سے لیکر سزاۓ موت تک اس کی تفصیل بھی درج ہے- اجمل قصاب کو جیل میں 4 سال رکھا گیا- 4 سالوں میں 50 کروڑ روپے کا خرچ کیا گیا- یومیہ خرچہ 3 لاکھ 50 ہزار روپے کیے گئے، جیل کو بم پروف بنانے پر 5 کروڑ 25 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر 1 کروڑ 22 لاکھ روپے کا خرچہ کیا گیا، دیگر سیکورٹی پر 19 کروڑ 28 لاکھ روپے کا خرچ، آرتھر روڈ جیل کی خاص سیکورٹی پر 43 کروڑ کا خرچہ کیا گیا جس میں 8 کروڑ روپے خاص کال کوٹھری پر خرچہ کیا، 1 کروڑ 50 لاکھ روپے جے جے ہسپتال میں سپیشل وارڈ بنانے پر خرچ کیے گئے، 1 کروڑ روپے اجمل قصاب کو لانے لے جانے پر خرچ کیے گئے- بمبئی پولیس کے 6 باورچیوں کو بھی اجمل قصاب کی خدمات پر مامور کیا گیا اور اجمل قصاب کو 3 سالوں تک بریانی بناکر کھلائی جاتی رہی- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خدمت گزاری ایک ایسے دہشت گرد کے لئے جس نے سینکڑوں بھارتیوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اجمل قصاب کی اس قسم کی خدمتیں کرنا بھی سوالیہ نشان ہے؟ اجمل قصاب کو سزاۓ موت کسی جلاد نے نہیں دی تھی بلکہ اجمل قصاب کو بمبئی پولیس کے ایک اہلکار نے دی تھی جس کو بھارتی حکومت نے راز میں رکھا
ابھی جاری ہے مزید حقائق آئندہ کی خبر میں
![]()